سابق ٹریفک پولیس چیف کراچی پیر محمد شاہ کو عہدے سے کیوں ہٹایا، کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
مدعی مقدمہ دانش متین کے مطابق ملزمان نے مجھ سے کاروباری حریف سے تنازع ختم کرنے، 31 کروڑ روپے نہ مانگنے اور تمام دستاویزات اور چیکس واپس کرنے کا تقاضا کیا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پر مبینہ طور پر ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرکے تاجر کو مبینہ طور پر اغوا کروانے کا الزام ہے، جس پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کے معاملے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پر مبینہ طور پر ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرکے تاجر کو مبینہ طور پر اغوا کروانے کا الزام ہے۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈوھو نے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ سے حیدرآباد کے تھانے اے سیکشن لطیف آباد میں تاجر کے خلاف درج مقدمے 2026/506 میں وضاحت طلب کی تھی۔ آئی جی سندھ نے 16 جنوری کو پیر محمد شاہ سے حیدرآباد میں تاجر کیخلاف مقدمہ درج کروانے کے معاملے پر شوکاز جاری کیا تھا۔ شوکاز میں کہا گیا کہ ییر محمد شاہ نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے جانب داری برتی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسی پولیس افسر کو مقدمے کی تفتیشی سونپی گئی، جس نے مقدمہ درج کیا۔
پیر محمد شاہ کو تین دن کی مہلت دی گئی اور جواب نہ دینے پر محکمہ جاتی کارروائی انتبیٰ کیا گیا اور تقریبا 14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو پیر محمد شاہ کو جواب دینے میں ناکامی پر عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ حیدرآباد کے تھانے اے سیکشن لطیف آباد میں درج مقدمے میں تاجر سے 31 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کی واپسی کا مطالبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق رواں سال 14 جنوری کی شام حیدرآباد کی پولیس کراچی آئی اور حیدرآباد پولیس نے ڈیفنس فیز 6 سے مقدمے میں نامزد تاجر کو ساتھ لے گئی۔ تاجروں کی مداخلت کے بعد مغوی تاجر ک حیدرآباد پولیس نے چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد متاثرہ تاجر کی مدعیت میں کاروباری حریف اور اس کے ساتھیوں کیخلاف 22 جنوری کو گزری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
مدعی مقدمہ دانش متین کے مطابق 14 جنوری کو ڈیفنس فیز 6 میں اپنے گھر سے دفتر جانے کیلئے نکلا تھا، سفید گاڑی میں سوار تین افراد نے مجھے روکا اور زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی، 2 افراد نے پولیس یونیفارم سے ملتا جلتا لباس پہنا ہوا تھا۔ ملزمان نے مجھ سے کاروباری حریف سے تنازع ختم کرنے، 31 کروڑ روپے نہ مانگنے اور تمام دستاویزات اور چیکس واپس کرنے کا تقاضا کیا۔ ملزمان نے میرے گھر کال کرکے 3 کروڑ روپے تاوان بھی مانگا، ملزمان نے میری جیب میں موجود 10 لاکھ روپے اور قیمتی کھڑی چھین لی، ملزمان نے رات ساڑھے 11 بجے کے قریب مجھے میرے دفتر کے قریب چھوڑا۔ حیدرآباد پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث تھانہ اے سیکشن لطیف آباد میں تعینات اے ایس آئی مزرا راشد سمیت 3 پولیس اہلکاوں کو معطل کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیر محمد شاہ کو کروڑ روپے کے مطابق جنوری کو
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔