بنگلادیش: شیخ حسینہ واجد کو 10 سال کی سزا سنادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو 10 سال اور ان کی بھتیجی ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سنادی گئی ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈھاکا میں خصوصی عدالت نے پورباچل پلاٹ فراڈ سے متعلق درج 2 مقدمات میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کو 10 سال قید اور ان کی بھتیجی اور برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سزا دی۔
ڈھاکا کی خصوصی عدالت 4 کے جج محمد ربیع العالم نے شیخ حسینہ کی دوسری بھتیجی ازمینہ صدیق اور بھتیجے رادوان مجیب صدیق بابی کو بھی 2 مقدمات میں سے ایک میں 7 سال قید کی سزا سنائی۔
ازمینہ اور بابی سمیت باقی 8 ملزمان پر 1-1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، اگر ایسا انھوں نے یہ جرمانہ ادا نہیں کیا تو 6 ماہ مزید جیل میں گزارنے ہونگے۔
فیصلے سے متعلق اے سی سی کے سرکاری وکیل میر احمد علی سلام نے بتایا کہ دوپہر تقریباً 12.
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کے 3 اہلخانہ کے علاوہ عدالت نے 2 مقدمات میں 11 دیگر ملزمان کو 10 سال قید اور ایک ملزم کو 2 سال جیل کی سزا سنائی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 27 نومبر سے یکم دسمبر کے درمیان، شیخ حسینہ کو 4 بدعنوانی کے مقدمات میں 26 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔
شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد اور بیٹے صجیب واجد جوئے، بہن شیخ ریحانہ اور بھتیجی ٹیولپ کو بھی 4-4 مقدمات میں سے ایک میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، اینٹی کرپشن کمیشن کے دائر ہر مقدمے کی سماعت 15 پیشیوں کے اندر مکمل ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مقدمات میں کو 10 سال سال قید کی سزا
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔