ملکی پیٹرولیم کمپنی نے 47 ارب کی لیوی چوری تسلیم کر لی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی:
ملکی پیٹرولیم کمپنی نے 47 ارب کی لیوی چوری تسلیم کر لی۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی انکوائری کے بعد ملکی پیٹرولیم کمپنی نےسرکاری خزانے میں ایک ارب روپے کی رقم جمع کرادی جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لئےچیکس اور پراپرٹی کو گارنٹی کے طور پر جمع کروادیا۔
ایف آئی اے کی انکوائری میں سابق سی ای او کے الیکٹرک تابش گوہر سمیت 13 ملزمان نامزد ہیں، بیشتر ملزمان کے بیانات قلمبند ہیں،وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں کیس انکوائری نمبر 03/2023 کے تحت پیٹرولیم کمپنی کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ پیٹرولیم لیوی کی عدم ادائیگی کی انکوائری جاری ہے۔
مزید پڑھیںپیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف
پیٹرولیم لیوی کی مد میں رواں مالی سال میں 14 ارب سے زائد وصولیوں کا تخمینہ
انکوائری کے مطابق کمپنی نے 2019 سے 2022 کے دوران وفاقی حکومت کو 33.
نامزد افراد میں امیر عباسی، عامر عباسی، اسامہ قریشی، امیر وحید احمد، محمد علی الدین اے، سید حسن زیدی، عظمیٰ عباسی، محمد وصی خان، اختر حسین ملک، سید ارشد رضا، محمد یاسین خان، تابش گوہر اور اسماء شیخ شامل ہیں۔
اس کیس میں تاحال کسی نامزد ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم کمپنی پیٹرولیم لیوی کی پیٹرولیم
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔