Jasarat News:
2026-07-24@02:05:24 GMT

پاکستان سے میچ نہ ہونے پر بھارت کو 14000 کروڑ کا نقصان ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260203-01-2
نئی د ہلی (مانیٹر نگ ڈیسک) گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے اعلان کے بعد سے بھارت اور دنیائے کرکٹ میں ہلچل مچ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ پاکستان بھارت مقابلے سے ہونے والی آمدنی ہے۔ماڈرن کرکٹ میں کچھ میچز پورے ٹورنامنٹ سے بڑے ہوتے ہیں اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ صرف ایک میچ نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم میچ ہوتا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت سے نہ کھیلنے کے فیصلے پر بھارت میں مچنے والے شور کی وجہ اس کا 50 کروڑ ڈالر (140 ارب پاکستانی روپے) کی مالیت کا ہونا ہے جس میں براڈکاسٹ حقوق، ایڈورٹائزنگ پریمیئم، اسپانسرشپ ایکٹیویشن، ٹکٹنگ اور قانونی سٹے بازی سمیت دیگر کمرشل سرگرمیاں شامل ہیں۔اس میچ کی وجہ سے پورے ٹورنامنٹ میں جان پڑتی ہے، براڈکاسٹر مہنگے داموں حقوق خریدتے ہیں اور آئی سی سی ان بورڈز کی مالی اعانت کرتا ہے جو اس قسم کا ریوینیو نہیں کما سکتے۔براڈکاسٹرز کے لیے یہ میچ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہوتا ہے۔ اس میچ میں 10 سیکنڈ کے اشتہار کے نرخ 25 لاکھ سے 40 لاکھ بھارتی روپے (76 لاکھ سے 1 کروڑ 22 لاکھ پاکستانی روپے) ہوتا، جس کے مقابلے بھارت کے دیگر بڑی ٹیموں کے خلاف میچز انہتائی کم قیمت معلوم ہوتے ہیں۔ اس میچ کا نہ ہونا ٹورنامنٹ کے پورے مالی سانچے کا نقشہ بدلنے کے مترادف ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق میچ نہ ہونے کا نقصان سب سے پہلے میچ کے حقوق رکھنے والوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ صرف اشتہارات کی مد میں پاک بھارت میچ کے دوران ایک اندازے کے مطابق 3 ارب بھارتی روپے (9.

2 ارب پاکستانی روپے) کمائے جاتے ہیں۔نقصان کی صورت میں براڈکاسٹر اپنا نقصان آئی سی سی سے پورا کرتا ہے جس کے بعد صرف پاکستان اور بھارت کے ریوینیو میں ہی کٹوتی نہیں ہوگی بلکہ دیگر فْل اور ایسوسی ایٹ بورڈز کی ادائیگیوں میں آئی سی سی کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میچ نہ

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف