سرکاری ملازمین کی ریٹامنٹ کی عمرکے حوالے سے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: ملک میں ایک بار پھر سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں تین سال اضافے سے متعلق جعلی نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جس میں ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
وائرل نوٹیفکیشن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نام سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے تمام وفاقی سرکاری ملازمین کو تین سال کی توسیع دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ حکم یکم جنوری 2026 سے نافذ ہوگا۔تاہم سرکاری ذرائع نے اس نوٹیفکیشن کو جعلی، بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی نوٹیفکیشن نہ تو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور نہ ہی فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
ورلڈ کپ میچ بائیکاٹ، اگر بھارت اور پاکستان سپر 12، سیمی فائنل اور فائنل میں ٹاکرا ہوا تو پھر کیا ہوگا ؟
ذرائع کے مطابق وائرل نوٹیفکیشن میں خیبر پختونخوا کا لوگو، وزارتِ پاکستان اسلام آباد کا جعلی ٹائٹل اور شکیل قدیر خان چیف سیکرٹری وزارت پاکستان کے جعلی دستخط استعمال کیے گئے ہیں، جبکہ فنانس اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جعلی حوالہ نمبر بھی درج ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے جعلی نوٹیفکیشنز اور خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں، جن کا مقصد سرکاری ملازمین اور عوام میں کنفیوژن اور بے یقینی پیدا کرنا ہوتا ہے۔متعلقہ اداروں نے سرکاری ملازمین اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کی اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند سرکاری ذرائع، سرکاری ویب سائٹس اور گزٹ نوٹیفکیشنز پر ہی انحصار کریں۔
موسم تبدیل ؛ سکولوں کے اوقات کار بھی تبدیل ہوگئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین گیا ہے
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔