عمران خان کا آپریشن نہیں ہوا، صرف انجیکشن لگے: وزیرِ قانون
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا آپریشن نہیں ہوا ہے. انہیں صرف انجیکشن لگائے گئے ہیں۔منگل کو سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے خود پمز اسپتال میں علاج کروانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اگر دوبارہ ایسا کوئی معاملہ سامنے آیا تو انہیں تمام ممکنہ طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو کسی قسم کی حق تلفی یا شکایت ہے تو اس کے لیے متعلقہ عدالتیں اور اپیلٹ ٹریبونلز موجود ہیں، جہاں قانونی طریقہ کار کے مطابق رجوع کیا جا سکتا ہے۔اعظم نذیر نے عمران خان کی آنکھ میں تکلیف پر حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 60 سال کی عمر کے بعد آنکھ میں بلڈ سرکولیشن کے مسائل بہت سے افراد کو لاحق ہوتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو بھی وہی انجیکشن لگایا گیا جو عام مریضوں کو لگتا ہے، بانی پی ٹی آئی کا کوئی آپریشن نہیں ہوا بلکہ صرف انجیکشن دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر نے بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے دائیں آنکھ میں بینائی کی کمی کی شکایت کی تھی۔ جس کے بعد ابتدائی طور پر ایک سینئر ڈاکٹر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ای ڈی پمز کے مطابق، معائنے کے دوران دائیں آنکھ کے تمام ضروری ٹیسٹ مکمل کیے گئے، جن میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈوسکوپی، آنکھ کے اندر دباؤ کی پیمائش اور ریٹینا کی او سی ٹی شامل تھی۔ان ٹیسٹس کے بعد ڈاکٹروں نے دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص کی۔ای ڈی پمز کے مطابق مزید علاج کے لیے سینئر ڈاکٹر نے بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی، جس کے بعد ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب انہیں تجویز کردہ علاج کے لیے پمز لایا گیا۔اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی بیماری اور علاج کے طریقہ کار سے مکمل طور پر آگاہ کیا گیا اور علاج سے قبل ان سے تحریری رضامندی بھی حاصل کی گئی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون کا نفاذ بھی ایک باقاعدہ قانونی عمل کے تحت ہوتا ہے اور کسی کے ساتھ بھی غیر قانونی یا غیر آئینی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرائل کے نتیجے میں سابق وزیراعظم کو سزا سنائی گئی اور بانی پی ٹی آئی اس وقت جیل میں ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وزیراعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سہولتیں نہ دی جائیں، بلکہ وزیراعظم نے پمز اسپتال کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ تمام حقائق پر مبنی پریس ریلیز جاری کی جائے تاکہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ان کے مطابق عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور دعا ہے کہ وہ مکمل صحت مند رہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پولیس حراست میں ایریا مجسٹریٹ کی نگرانی ہوتی ہے جبکہ سزا یافتہ مجرم کے معاملات اپیلٹ ٹریبونل دیکھتا ہے۔ اگر جیل میں سہولتیں فراہم نہ ہونے کی شکایت ہو تو سپرنٹنڈنٹ جیل اور عدالت اپیلٹ ٹریبونل متعلقہ فورمز ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رانا ثنااللہ کو منشیات کے ایک ناحق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا.
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ جیل میں ملاقات کے طریقہ کار کے لیے بھی اپیلٹ ٹریبونل سے رجوع کرنا ہوتا ہے، جبکہ عدالتیں نوٹیفائیڈ ہیں اور کیسز کی باقاعدہ نگرانی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کمیٹی میں حال ہی میں ٹرانس جینڈر ممبران کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن کے مسائل اور شکایات پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق جیل میں الگ سیل اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے مطالبات پر قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹنگ آف کرائم سے لے کر ٹرائل تک تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے گئے، جبکہ آرڈیننس کے تحت قانونی ترامیم پارلیمنٹ سے منظور کرائی گئیں، جو مکمل طور پر آئینی اور قانونی دائرہ کار میں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے کہ بانی پی ٹی آئی بانی پی ٹی آئی کو وفاقی وزیر قانون عمران خان کی نے کہا کہ انہوں نے آنکھ میں کے مطابق کیا گیا جیل میں کے بعد کے لیے
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔