پاک، ازبکستان کا تجارت، سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ازبکستان کے وزیر سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لذیز قدرتوف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران ہوئی۔ ملاقات میں دونوں وزرا نے پاکستان–ازبکستان اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے پر زور دیا اور دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جس میں ازبکستان کی پاکستان سے درآمدات میں 12 فیصد جبکہ برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں دوطرفہ تجارت کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ ترجیحی تجارتی فریم ورک کے تحت مصنوعات کی فہرست کو 34 سے بڑھا کر 92 کرنے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ازبکستان میں 228 پاکستانی کمپنیاں فعال ہیں جبکہ گزشتہ سال 80 نئی پاکستانی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں آئی۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان براہِ راست فضائی پروازوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، اسلام آباد اور لاہور سے ہفتہ وار پروازیں جاری ہیں جبکہ کراچی سے پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
دونوں فریقین نے متبادل تجارتی راستوں، شمالی کوریڈور کے استعمال اور پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان گرین کوریڈور کے قیام پر مشاورت کی۔ اس کے علاوہ کان کنی، معدنیات، خوراک اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔