پشاور زلمی نے بابر اعظم کو ریٹین اور صائم ایوب کو ریلیز کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن سے قبل کھلاڑیوں کی ریٹینشن سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور زلمی نے اپنے کپتان بابر اعظم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ اوپننگ بلے باز صائم ایوب کو ریلیز کرنے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعظم اور صائم ایوب دونوں کا شمار پشاور زلمی کی پلاٹینم کیٹیگری میں ہوتا ہے، تاہم پی ایس ایل قوانین کے مطابق ہر فرنچائز ایک کیٹیگری میں صرف ایک ہی کھلاڑی کو ری ٹین کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے پشاور زلمی نے کپتان بابر اعظم کو ترجیح دیتے ہوئے صائم ایوب کو ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیںآسٹریلیا کیخلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں بابراعظم اور صائم ایوب کی دھواں دار بیٹنگ
کپتان کا ابھی نہیں سوچا، بابراعظم کو شامل کرنا چاہتے ہیں، اونر حیدرآباد فرنچائز
ذرائع نے مزید بتایا کہ صائم ایوب اب پی ایس ایل پلیئرز آکشن میں تمام فرنچائزز کے لیے دستیاب ہوں گے جہاں دیگر ٹیمیں انہیں اپنی اسکواڈ میں شامل کرنے کے لیے بولی لگائیں گی۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن کے لیے فرنچائزز آج اپنے ریٹین کیے گئے کھلاڑیوں کی فہرست حتمی شکل دیں گی جس کے بعد پلیئرز آکشن کے مراحل کا آغاز کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پشاور زلمی صائم ایوب اعظم کو
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔