اگر وزیرِاعظم گھر نہیں جا رہے تو میں بھی نہیں جا رہا، میئر کراچی مرتضی وہاب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
میڈیا سے گفتگو کے دوران مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ امیرِ جماعت اسلامی یہاں تصویر لگاتے ہیں، اپنی تصویر لاہور میں لگا کر دکھائیں؟ شارع فیصل کو انہوں نے بلاک کر دیا، چھٹی والے دن لوگوں کو گھومنا ہوتا ہے انہیں مشکل میں ڈال دیا، مصطفی کمال صاحب بلدیاتی حکومتوں کے سپورٹر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بلدیاتی حکومت کو خود مختار ہونا چاہیئے اور وزیرِ اعظم سے بلدیہ ٹاؤن کی سڑک بنوائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہاہے کہ کیا وزیرِ اعظم گھر جا رہے ہیں؟ اگر وزیرِ اعظم نہیں جا رہے تو میں بھی نہیں جا رہا۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن یہاں تصویر لگاتے ہیں، اپنی تصویر لاہور میں لگا کر دکھائیں؟ مرتضی وہاب نے کہا کہ جہاں کوتاہی نظر آئی وہاں افسر کے خلاف کارروائی ہوئی، یہ نہیں ہو سکتا کہ افسران کام نہ کریں اور گالیاں ہم کھائیں، شہر کام کا طلب گار ہے، ہمیں مل کر شہر کے مسائل حل کرنا ہوں گے اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ سیاسی رہنماؤں پر تنقید ہو افسران کے خلاف کارروائی نہ ہو۔ میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں الزام ایک ادارہ دوسرے ادارے پر اور ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت پر ڈالتی ہے، ٹرانفسر پوسٹنگ مسئلے کا حل نہیں ہے، مگر مسائل کو حل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منافقوں کا کچھ نہیں کہہ سکتا، کہاں سڑکیں بنا رہے ہیں، یہ میرے عوام کا پیسہ ہے، میرا ذاتی پیسہ نہیں ہے، نہ ہی چندے کا ہے، پچھلے دنوں سنا کہ 6 سو سے زیادہ سڑکیں بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگ جاتی ہے، بجھ جاتی ہے، جس کا نقصان ہوتا ہے اس سے پوچھو کیا گزرتی ہے، ہمارے ہاں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے سانحات پر ہم سیاست کرتے ہیں۔ مرتضی وہاب نے امیرِ جماعتِ اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شہر میرا ہے کیا میں اپنے گھر پر آپ کی تصویر لگا سکتا ہوں، امیرِ جماعت اسلامی یہاں تصویر لگاتے ہیں، اپنی تصویر لاہور میں لگا کر دکھائیں؟ شارع فیصل کو انہوں نے بلاک کر دیا، چھٹی والے دن لوگوں کو گھومنا ہوتا ہے انہیں مشکل میں ڈال دیا۔
میئر کراچی نے کہا کہ بینرز اور جھنڈے لگانے کے پیسے ہیں، پانی پلانے کے پیسے نہیں ہیں، مصطفی کمال صاحب بلدیاتی حکومتوں کے سپورٹر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بلدیاتی حکومت کو خود مختار ہونا چاہیئے اور وزیرِ اعظم سے بلدیہ ٹاؤن کی سڑک بنوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والے آ جائیں ساتھ بیٹھتے ہیں کام کریں گے، اگر چھوٹی گلیاں ٹاؤن بنائے اور بڑی سڑکیں کے ایم سی بنائے تو یہ زیادہ بہتر نہیں ہوگا؟ کراچی میں ڈی این اے لیب بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ میئر کراچی نے بتایا کہ 26 سڑکوں پر ساڑھے 5 ارب خرچ کیے جائیں گے، 15 کروڑ کی لاگت سے لائبریری میں ترقیاتی کام ہوا ہے، مستقبل کے معماروں کو یہاں مزید سہولتیں فراہم کریں گے۔
مرتضی وہاب نے بتایا کہ یہاں سیوریج کی صورتِ حال بہت خراب تھی، ایکس سی این کو بلایا تھا، یہاں ایکس سی این نئے ہیں، انہیں 5 دن کا وقت دیا ہے، الزام تراشی ایک دوسرے کے اوپر نہیں ہونی چاہیئے، ان شا اللہ 5 دن کے بعد یہاں کی صورتِ حال دیکھنے دوبارہ آؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہر کام کا طلب گار ہے، کام شہر کا حق ہے، سب کی ذمے داری ہے کہ ڈومین میں رہتے ہوئے کام کریں، کوئی شہری نہیں چاہتا کہ ادارے آ کر اس کو بتائیں کہ میں کام نہیں کر سکتا۔ میئر مرتضی وہاب نے بتایا کہ ساڑھے 5 کروڑ کی لاگت سے سڑکیں بنائی جائیں گی، یونیورسٹی روڈ، اولڈ سٹی، آئی آئی چند دیگر روڈ کی سڑک کو بہتر کریں گے، 4 کوریڈور بھی بنانے جا رہے ہیں،، شارع فیصل سے ناتھا خان تک جانے والے راستے پر، راشد منہاس روڈ اور سرشاہ سلیمان روڈ کوریڈور بنائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مرتضی وہاب نے میئر کراچی تصویر لگا نہیں جا رہے ہیں نہیں ہو جا رہے
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :