پیپلز پارٹی کی 17 سالہ طویل حکمرانی کراچی کے عوام کے لیے عذاب ثابت ہوئی ہے، سردار عبدالرحیم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فنکشنل لیگ سندھ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں سیوریج کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، سڑکیں کھنڈرات بن چکی ہیں، تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں اور صحت کی بنیادی سہولیات ناپید ہو چکی ہیں، شہریوں کو پینے کے صاف پانی، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کو عوامی مینڈیٹ کے منافی، جعلی اور بدترین دھاندلی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان متنازع نتائج کے خلاف 8 فروری کو کراچی پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جس میں عوام بھرپور اور تاریخی شرکت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ پی ایس 97 لاسی گوٹھ، بھٹائی کالونی میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سردار عبدالرحیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی 17 سالہ طویل حکمرانی کراچی کے عوام کے لیے عذاب ثابت ہوئی ہے، ترقیاتی منصوبوں کے دعوے صرف فائلوں اور کاغذوں تک محدود رہے، جبکہ زمینی حقائق موہنجو دڑو کے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں سیوریج کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، سڑکیں کھنڈرات بن چکی ہیں، تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں اور صحت کی بنیادی سہولیات ناپید ہو چکی ہیں، شہریوں کو پینے کے صاف پانی، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔
سردار عبدالرحیم نے واضح اعلان کیا کہ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اقتدار میں آ کر عوامی مسائل کو اولین ترجیح دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس 97 کے لاسی گوٹھ سمیت دیگر گوٹھوں کو لیز دے کر مالکانہ حقوق فراہم کیے جائیں گے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور گوٹھوں سے منشیات کے ناسور کا قلع قمع کیا جائے گا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے لوٹ مار اور کرپشن میں مصروف رہی، جس کا خمیازہ آج سندھ کے عوام بھگت رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سردار عبدالرحیم نے کہا کہ کراچی کے انہوں نے چکی ہیں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک