کولاج فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ ذاتی ڈاکٹروں سے کروانے کا مطالبہ کردیا۔ 

خط کے متن میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، ان کا طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کروایا جائے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے خط میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ڈاکٹروں کے نام بھی تجویز کردیے جن میں ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر مظہر اسحاق اور ڈاکٹر عامر اعوان شامل ہیں۔ 

بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہو سکتی ہے، آپ انہیں انکی مرضی کے ڈاکٹر سے چیک کروائیں: راجہ ناصر عباس

سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے حقوق ہیں، بطور شہری بھی اور بطور قیدی کے بھی۔

واضح رہے کہ یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان میں آنکھوں کی ایک سنگین بیماری کی تشخیص ہوئی ہے جسے سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کہا جاتا ہے۔

یہ عارضہ عموماً عمر رسیدہ افراد میں پایا جاتا ہے اور اس کا تعلق دل اور خون کی نالیوں سے جڑے خطراتی عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے ہوتا ہے۔

ماہرینِ چشم کے مطابق CRVO اس وقت ہوتا ہے جب ریٹینا (آنکھ کے پردے) سے خون واپس لے جانے والی مرکزی رگ، جسے سینٹرل ریٹینل وین کہا جاتا ہے، بند ہو جاتی ہے، جو عموماً خون کے لوتھڑے (clot) کے باعث ہوتا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی پی ٹی آئی

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ