City 42:
2026-07-24@10:40:00 GMT

شب برات ؛ صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان کی قوم کو مبارکباد

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

شبِ برات کے موقع پر صدرِ اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری   نے  قوم کے نام پیغام میں کہا شبِ برات اسلامی تقویم کی نہایت بابرکت راتوں میں سے ایک ہے، جو پندرہویں شعبان المعظم کو آتی ہے۔ اس مقدس رات کو الّلہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور بندوں کے لیے فیصلوں کی رات قرار دیا گیا ہے۔ یہ رات انسان کو توبہ و استغفار، محاسبۂ نفس اور الّلہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا خصوصی اور قیمتی موقع فراہم کرتی ہے۔ علمائے کرام کے مطابق شبِ برات وہ مبارک رات ہے جس میں بخشش، رحمت اور نجات کے فیصلے صادر ہوتے ہیں۔شبِ برات امتِ مسلمہ کے لیے الّلہ تعالیٰ کی خصوصی عنایات، رحمت اور مغفرت حاصل کرنے کی عظیم رات ہے۔ اس بابرکت موقع پر میں پوری پاکستانی قوم کو دلی پیغامِ خیر پیش کرتا ہوں۔ یہ رات ہمیں الّلہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کے کرم و فضل اور بندوں کے ساتھ اس کی شفقت کی گہری یاد دہانی کراتی ہے۔

کراچی میں کتوں کے لوگوں پر حملے ، 5ہزار کیسز رپورٹ ،2 افراد اللہ کو پیارے

شبِ برات ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا سنجیدگی سے محاسبہ کریں، الّلہ تعالیٰ کے حضور خلوصِ دل کے ساتھ توبہ کریں، اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو نیکی، تقویٰ اور اصلاح کی راہ پر گامزن کریں۔ یہ مقدس رات انسان کو اپنی کوتاہیوں پر ندامت اور مستقبل کے لیے بہتر اور درست راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔اسلام ہمیں صبر، درگزر، رحم دلی اور باہمی ہمدردی کا درس دیتا ہے، اور شبِ برات ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اپنانے کا عملی موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ الّلہ تعالیٰ کی رحمت بے حد و حساب وسعت کی حامل ہے جس میں وہ اپنے بندوں کے لیے مغفرت کے دروازے کھول دیتا ہے۔

معروف صنعت کار خواجہ جلال الدین رومی انتقال کرگئے 

میں اس موقع پر قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم شبِ برات کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، معاشرے میں امن، برداشت اور رواداری کو فروغ دیں، اور ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں۔آج جب پاکستان کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، شبِ برات ہمیں امید، اصلاح اور باہمی اتحاد کا  پیغام دیتی ہے۔ یہ رات ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد اور اجتماعی بھلائی کو مقدّم رکھیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار انتخابات، ایک اور امیدوار بلامقابلہ منتخب

میں اس مقدّس رات الّلہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ وہ پاکستان کو امن و سلامتی، معاشی استحکام اور قومی یکجہتی سے نوازے، ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری کوششوں کو ملک و قوم کی فلاح کے لیے شرفِ قبولیت بخشے۔

الّلہ تعالیٰ ہمیں شبِ برات کے پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

صارفین کیلئے برُی خبر؛ بجلی مہنگی کرنے کیلئے درخواست جمع

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شب برات 15 شعبان 1447 پر پیغام دیتے ہوئے کہا  پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو شب برات کے بابرکت اور روح پرور موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

پندرہویں شعبان المعظم کی یہ مقدس رات اللہ بزرگ و برتر کے حضور اپنے اعمال پر نظر ثانی اور دانستہ نادانستہ کوتاہیوں پر استغفار اور تزکیہ نفس کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ مبارک شب مسلمانوں کو اللہ کے فضل و کرم، رحمت، برکات اور بخشش کا طلبگار ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اللہ تعالی اس مبارک شب کی روحانی قدر و منزلت سے  مسلمانوں کو مستفید ہونے کی سعادت عطا فرمائے۔ بے شک یہ عظیم اور مقدس رات اللہ تبارک تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے اور مسلمانوں کے ایمان اور اللہ کی اطاعت جیسی مذہبی اقدار کو ترو تازہ کرتی ہے۔ شب برات  اعمال انسانی کا خلوص نیت سے محاسبہ کرنے کے ساتھ ساتھ  دلی توبہ اور ہدایت ایزدی کا طالب ہونے کا نام ہے.

 بے شک یہ شب باعث ترغیب ہے کہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کی اصلاح  کرتے ہوتے نیکی اور  تقوی کو مشعل راہ بنایا جائے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اعمال کی درستگی کی راہ پر چلتے ہوے اسوہ حسنہ پر  عمل پیرا ہونے کی سعادت عطا فرمائے۔ تاکہ ہم سماجی سطح پر  نیکی ، رحم دلی ،عدل و انصاف اور دیگر مثبت اقدار کو رائج کر سکیں۔ 

اس موقع پر میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ  اس مبارک شب انفرادی تزکیہ کے ساتھ بحیثیت قوم بھی اپنے فرائض کا تزکیہ کریں۔ 
شب برات کی ان با برکت ساعتوں میں ہم دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ ملک عزیز  کو  امن و استحکام، یکجہتی، باہمی اتحاد اور ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنا ئیں اور ملکی استحکام اور ترقی اور خوشحالی کے لئے تعمیری کردار ادا کریں.
 آمین!

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: موقع فراہم کرتی ہے ال لہ تعالی مقدس رات کرتا ہوں رات ہمیں کے ساتھ شب برات کرنے کی کے لیے یہ رات

پڑھیں:

زندگی کا مقصد

دنیا میں آنے والا ہر انسان کسی نہ کسی مرحلے پر یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں کیوں پیدا کیا گیا ہوں؟ کیا زندگی صرف تعلیم حاصل کرنے، روزگار کمانے، آسائشیں جمع کرنے اور پھر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جانے کا نام ہے، یا اس کے پیچھے کوئی بڑا مقصد بھی موجود ہے؟ یہی سوال صدیوں سے انسان کے ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔ فلاسفہ، مفکرین اور دانشور اپنے اپنے انداز میں اس کا جواب تلاش کرتے رہے ہیں، لیکن اسلام اس حوالے سے نہایت واضح اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق انسان کی تخلیق کسی اتفاق یا بے مقصد عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کا بنیادی مقصد اپنے خالق کو پہچاننا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔یہاں عبادت کا مفہوم صرف نماز، روزہ یا دیگر مخصوص مذہبی اعمال تک محدود نہیں۔ اسلام میں عبادت ایک جامع تصور ہے جس میں زندگی کا ہر وہ عمل شامل ہے جو اللہ تعالی کی رضا کے لئے کیا جائے۔ ایک طالب علم کا دیانت داری سے علم حاصل کرنا، ایک تاجر کا ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنا، ایک استاد کا اخلاص کے ساتھ تعلیم دینا اور ایک شہری کا معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔قرآنِ مجید انسان کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اسے بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تمہیں فضول پیدا کیا گیا ہے اور تمہیں ہماری طرف واپس نہیں لوٹنا؟ اس پیغام میں انسان کے لئے ایک اہم تنبیہ موجود ہے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور اسے ایک دن اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہوگا۔اسلام انسان کو زمین پر اللہ کا نائب قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو زمین پر خیر، انصاف اور بھلائی کے قیام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسے علم حاصل کرنا، معاشرے کی اصلاح کرنا، کمزوروں کی مدد کرنا اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ جب انسان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر زندگی گزارتا ہے تو وہ اپنے مقصدحیات کے قریب تر ہو جاتا ہے۔زندگی دراصل ایک امتحان ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا تاکہ آزمایا جائے کہ کون بہترین عمل کرتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ کامیابی صرف مال و دولت، عہدے یا شہرت کا نام نہیں بلکہ بہترین کردار، اعلی اخلاق اور نیک اعمال کا نام ہے۔اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو اکثر لوگ دنیاوی کامیابی کو ہی زندگی کا آخری مقصد سمجھ لیتے ہیں۔ وہ دولت جمع کرنے، دوسروں سے آگے نکلنے اور ظاہری کامیابی حاصل کرنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ لیکن جب مقصد صرف دنیا بن جائے تو انسان حقیقی سکون سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسلام انسان کو توازن کا درس دیتا ہے۔ وہ دنیا میں بھی کامیابی چاہتا ہے لیکن آخرت کی کامیابی کو اس سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات بھی مقصدِ حیات کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی عمل کی اصل قدر اس کی نیت سے متعین ہوتی ہے۔ اگر انسان کی نیت درست ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لئے کام کرے تو اس کے معمولی سے معمولی کام کو بھی عظیم اجر حاصل ہو سکتا ہے۔ایک اور مشہور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس تعلیم سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان صرف اپنی ذات کے لئے نہیں جیتا بلکہ وہ اپنے خاندان، اپنے معاشرے اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی جواب دہ ہے۔ ایک والد، استاد، حکمران، تاجر یا طالب علم سب اپنی اپنی جگہ ذمہ دار ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا حساب دینا ہوگا۔اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔ یہ تعلیم انسان کو مثبت کردار، حسنِ اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ آج کے دور میں جب سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے الفاظ بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، یہ حدیث پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے دنیا اور آخرت کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مومن دنیا کی نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن اپنی خواہشات کو اللہ کے احکامات کا پابند بناتا ہے اور آخرت کی دائمی کامیابی کو دنیا کی عارضی لذتوں پر ترجیح دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مقصد کے بغیر زندگی ایک ایسے جہاز کی مانند ہے جس کا کوئی راستہ متعین نہ ہو۔ انسان جتنا بھی کامیاب نظر آئے، اگر اس کے پاس واضح مقصد نہ ہو تو وہ اندرونی بے چینی اور خلا کا شکار رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے رب کو پہچان لیتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو خیر اور بھلائی کے لئے وقف کر دیتا ہے، وہ حقیقی سکون حاصل کر لیتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور خود سے یہ سوال کریں کہ کیا ہم اپنے اصل مقصد کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم، ہماری محنت، ہمارے تعلقات اور ہماری روزمرہ سرگرمیاں ہمیں اللہ کی رضا کے قریب لے جا رہی ہیں؟ اگر نہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔مختصرا، انسان دنیا میں صرف کھانے، پینے، کمانے اور مر جانے کے لئے نہیں آیا۔ اس کا مقصد اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا، اس کی عبادت کرنا، بہترین اخلاق اپنانا، انسانیت کی خدمت کرنا اور آخرت کی کامیابی کے لیے تیاری کرنا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں عزت، سکون اور کامیابی عطا کرتا ہے اور آخرت میں دائمی فلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایک بامقصد زندگی ہی درحقیقت کامیاب زندگی ہے، اور یہی اسلام کا پیغام ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • زندگی کا مقصد
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان