اسلام ٹائمز: غیبت امید کا چراغ بھی ہے۔ جب دنیا میں ظلم، ناانصافی، جنگیں اور بدامنی پھیلتی ہے تو دل مایوس ہونے لگتا ہے، مگر عقیدۂ مہدویت ہمیں یقین دلاتا ہے کہ یہ اندھیرا ہمیشہ نہیں رہے گا۔ ایک دن ضرور آئے گا، جب امام مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ یہی امید مومن کو ثابت قدم رکھتی ہے اور اسے حق پر قائم رہنے کی طاقت دیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ غیبت کو محرومی نہ سمجھیں بلکہ اسے اللہ کی رحمت اور حکمت سمجھیں۔ ہمیں شکوک و شبہات کے بجائے یقین، صبر اور عمل کو اپنانا چاہیئے۔ ہر دن یہ دعا کرنی چاہیئے کہ "اللّٰهم عجّل لولیک الفرج۔" تحریر: عاصم علی
جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی

تمہید
اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کو پیدا کیا تو انسان کو اس میں ایک خاص مقصد کے تحت بسایا۔ انسان کو عقل دی، شعور دیا اور پھر اسے تنہا نہیں چھوڑا بلکہ اس کی رہنمائی کے لیے انبیاء، کتابیں اور ہدایت کے اصول عطا فرمائے۔ اگر انسان کو بغیر رہنماء کے چھوڑ دیا جاتا تو وہ گمراہی، ظلم اور فساد میں مبتلا ہو جاتا۔ اسی لیے تاریخِ انسانیت میں ہر زمانے میں اللہ کے نمائندے موجود رہے۔ رسول اکرمﷺ آخری نبی ہیں، لہٰذا آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا، مگر ہدایت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیتِ اطہارؑ کو مقرر فرمایا۔ یہی ائمہ دین کی صحیح تفسیر، شریعت کی حفاظت اور انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہر امام کو شدید ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ائمہ کو زہر دیا گیا یا شہید کیا گیا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری ذخیرۂ ہدایت، یعنی امام مہدی علیہ السلام کو غیبت میں رکھا، تاکہ وہ محفوظ رہیں اور ایک دن ظاہر ہو کر پوری دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کریں۔
یہی غیبت کا مسئلہ بہت سے لوگوں کے لیے سوال بن جاتا ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غیبت درحقیقت اللہ کی عظیم حکمتوں کا حصہ ہے۔

امام مہدی علیہ السلام کا تعارف اور مقام
امام مہدی علیہ السلام اہلِ بیتؑ کی بارہویں کڑی ہیں۔ آپ کا نام محمد اور لقب مہدی ہے۔ آپ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ہیں۔ اسلامی روایات میں آپ کو "قائم"، "حجت"، "صاحب الزمان" اور "بقیۃ اللہ" جیسے القابات سے یاد کیا گیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے بارہا آپ کے ظہور کی بشارت دی۔ "مہدی میری اولاد میں سے ہوگا اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔" یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ دنیا کبھی بھی ہدایت سے خالی نہیں ہوگی۔ اگرچہ امام نظروں سے پوشیدہ ہیں، لیکن وہ زندہ ہیں اور اللہ کے حکم سے اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

غیبت کا مفہوم کیا ہے؟
غیبت کا مطلب یہ نہیں کہ امام دنیا میں موجود نہیں یا وفات پا چکے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام زندہ ہیں، مگر عام لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے ایک آسان مثال دی جاتی ہے۔ جیسے سورج بادلوں کے پیچھے چھپ جائے تو ہمیں نظر نہیں آتا، مگر اس کی روشنی اور حرارت باقی رہتی ہے۔ اسی طرح امام بھی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں، مگر ان کی برکتیں اور روحانی اثرات جاری رہتے ہیں۔

غیبت کا فلسفہ اور حکمتیں
اب ہم غیبت کی ہر حکمت کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
1۔ امام کی جان کی حفاظت
یہ حقیقت ہے کہ تاریخ میں کسی امام کو سکون سے زندگی گزارنے نہیں دی گئی۔ ہر امام کو یا تو قید کیا گیا یا شہید کیا گیا۔ عباسی حکمرانوں کو معلوم تھا کہ آخری امام دنیا میں انقلاب برپا کریں گے، اس لیے وہ خاص طور پر امام مہدیؑ کی تلاش میں تھے۔ اگر امام ظاہر ہوتے تو دشمن فوراً انہیں شہید کر دیتے اور اللہ کا وعدہ پورا نہ ہو پاتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں غیبت میں رکھ کر محفوظ کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو فرعون کے ظلم سے بچایا گیا، حضرت ابراہیمؑ کو آگ سے محفوظ رکھا گیا۔ حضرت عیسیٰؑ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا، جب انبیاء کی حفاظت کی جا سکتی ہے تو امام کی کیوں نہیں۔؟

2۔ ایمان کا امتحان
غیبت انسان کے ایمان کا کڑا امتحان ہے۔ جب امام ظاہر ہوں تو ایمان لانا آسان ہوتا ہے، مگر جب وہ نظر نہ آئیں تو یقین رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی اصل امتحان ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں: امام کہاں ہیں؟، کیوں نہیں آتے؟، شاید وہ موجود ہی نہیں؟ یہی شکوک ایمان کو کمزور کرتے ہیں۔ لیکن سچے مومن کہتے ہیں: "چاہے حالات جیسے بھی ہوں، ہمیں اللہ کے وعدے پر یقین ہے۔" یہی حقیقی ایمان ہے۔

3۔ ظالم حکومتوں سے آزادی
اگر امام ظاہر ہوتے تو وقت کے حکمران انہیں بیعت پر مجبور کرتے۔ اگر وہ بیعت کرتے تو انقلاب کا مقصد ختم ہو جاتا اور اگر انکار کرتے تو شہید کر دیئے جاتے۔ لہٰذا اللہ نے انہیں غیبت میں رکھا تاکہ کسی ظالم کی بیعت نہ کریں، مکمل آزادی کے ساتھ قیام کریں، یہ آزادی عالمی انقلاب کے لیے ضروری ہے۔

4۔ انسانیت کی تربیت اور تیاری
عدل کا نظام صرف ایک فرد کے آنے سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے پوری قوم کی تیاری ضروری ہوتی ہے۔ اگر لوگ بدعنوان ہوں، ظالم ہوں، دین سے دور ہوں تو وہ امام کا ساتھ نہیں دیں گے۔ غیبت کا زمانہ دراصل تربیت کا زمانہ ہے۔ یہ ہمیں خود کو بدلنے کا موقع دیتا ہے۔

5۔ سنتِ الہیٰ
اللہ کی سنت ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ اپنے حجت کو بعض اوقات لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھتا ہے۔ حضرت یوسفؑ سالوں اپنے والد سے دور رہے۔ حضرت موسیٰؑ چالیس دن کے لیے طور پر گئے۔ حضرت عیسیٰؑ آج تک زندہ ہیں تو امام مہدیؑ کی غیبت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

6۔ باطنی رہنمائی اور روحانی برکت
اگرچہ امام ظاہر نہیں مگر امت کو تنہاء نہیں چھوڑا گیا۔ امام دعا کرتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں، علماء کی مدد کرتے ہیں، دین کو تحریف سے بچاتے ہیں، ان کا وجود زمین کے لیے امان ہے۔

7۔ امید اور حوصلہ
غیبت ہمیں مایوس نہیں ہونے دیتی۔ یہ یقین دلاتی ہے کہ ظلم ہمیشہ نہیں رہے گا، عدل ضرور آئے گا، نجات کا دن قریب ہے، یہ امید انسان کو زندہ رکھتی ہے۔

ہماری ذمہ داریاں
غیبت صرف انتظار کا نام نہیں بلکہ عمل کا نام ہے.

ہمیں چاہیئے کہ  خود کو صالح بنائیں، عبادت کریں، ظلم سے بچیں، عدل کو فروغ دیں، امام کے لیے دعا کریں، دین کی خدمت کریں، سچا منتظر وہ ہے، جو خود کو ظہور کے لیے تیار کرے۔

نتیجہ
غیبتِ امام زمانہ علیہ السلام کوئی اتفاقی یا غیر ضروری واقعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک گہری اور بامقصد حکمت کا حصہ ہے۔ بظاہر اگرچہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ امام ہماری نظروں سے اوجھل ہیں اور ہم ان کی ظاہری رہنمائی سے محروم ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ امام زندہ ہیں، موجود ہیں، ہماری نگرانی فرما رہے ہیں اور اللہ کے حکم سے انسانیت کی ہدایت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غیبت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کا نظام صرف ظاہری اسباب پر موقوف نہیں ہوتا بلکہ بہت سی حقیقتیں ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہوتی ہیں۔ جس طرح ہوا ہمیں نظر نہیں آتی، لیکن اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں، اسی طرح امام کا وجود اگرچہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا، مگر روحانی اور معنوی طور پر پوری امت کے لیے زندگی کا سبب ہے۔

یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ غیبت دراصل کئی اہم مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ یہ امام کی جان کی حفاظت کا ذریعہ ہے، مومنوں کے ایمان کا امتحان ہے، ظالم حکومتوں سے آزادی کا راستہ ہے، انسانوں کی تربیت اور اصلاح کا موقع ہے اور عالمی عدل و انصاف کے قیام کی تیاری کا مرحلہ ہے۔ گویا غیبت ایک خاموش مگر مسلسل الہیٰ منصوبہ ہے، جو انسانیت کو ایک عظیم انقلاب کے لیے تیار کر رہا ہے۔ ساتھ ہی غیبت ہمیں ایک اہم ذمہ داری کا احساس بھی دلاتی ہے۔ یہ ہمیں سستی اور بے عملی کا درس نہیں دیتی بلکہ ہمیں بیدار کرتی ہے کہ ہم خود کو بہتر بنائیں، اپنے اخلاق درست کریں، گناہوں سے بچیں، دین کی خدمت کریں اور ایک صالح معاشرہ تشکیل دیں، کیونکہ امام کا ظہور ایسے ہی لوگوں کے ذریعے ہوگا جو کردار، ایمان اور تقویٰ میں مضبوط ہوں گے۔ اگر ہم واقعی امام کے منتظر ہیں تو ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ان کے مددگار بننے کے قابل ہیں۔

غیبت امید کا چراغ بھی ہے۔ جب دنیا میں ظلم، ناانصافی، جنگیں اور بدامنی پھیلتی ہے تو دل مایوس ہونے لگتا ہے، مگر عقیدۂ مہدویت ہمیں یقین دلاتا ہے کہ یہ اندھیرا ہمیشہ نہیں رہے گا۔ ایک دن ضرور آئے گا، جب امام مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ یہی امید مومن کو ثابت قدم رکھتی ہے اور اسے حق پر قائم رہنے کی طاقت دیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ غیبت کو محرومی نہ سمجھیں بلکہ اسے اللہ کی رحمت اور حکمت سمجھیں۔ ہمیں شکوک و شبہات کے بجائے یقین، صبر اور عمل کو اپنانا چاہیئے۔ ہر دن یہ دعا کرنی چاہیئے کہ "اللّٰهم عجّل لولیک الفرج" اللہ تعالیٰ ہمیں سچا منتظر بنائے، ہمارے دلوں کو ایمان سے مضبوط کرے، ہمیں امام کے ظہور کے لیے تیار کرے اور ہمیں ان کے مددگاروں اور جانثاروں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام مہدی علیہ السلام عدل و انصاف اللہ تعالی امام ظاہر چاہیئے کہ انسان کو زندہ ہیں کرتے ہیں دنیا میں کی حفاظت نہیں دی ہوتا ہے کہ غیبت کیا گیا کہ امام بلکہ اس غیبت کا ہیں اور اللہ کی اللہ کے ظاہر ہو خود کو کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع