غیبتِ امام زمانہ علیہ السلام کا فلسفہ، حکمتیں، اثرات اور ہماری ذمہ داریاں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: غیبت امید کا چراغ بھی ہے۔ جب دنیا میں ظلم، ناانصافی، جنگیں اور بدامنی پھیلتی ہے تو دل مایوس ہونے لگتا ہے، مگر عقیدۂ مہدویت ہمیں یقین دلاتا ہے کہ یہ اندھیرا ہمیشہ نہیں رہے گا۔ ایک دن ضرور آئے گا، جب امام مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ یہی امید مومن کو ثابت قدم رکھتی ہے اور اسے حق پر قائم رہنے کی طاقت دیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ غیبت کو محرومی نہ سمجھیں بلکہ اسے اللہ کی رحمت اور حکمت سمجھیں۔ ہمیں شکوک و شبہات کے بجائے یقین، صبر اور عمل کو اپنانا چاہیئے۔ ہر دن یہ دعا کرنی چاہیئے کہ "اللّٰهم عجّل لولیک الفرج۔" تحریر: عاصم علی
جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی
تمہید
اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کو پیدا کیا تو انسان کو اس میں ایک خاص مقصد کے تحت بسایا۔ انسان کو عقل دی، شعور دیا اور پھر اسے تنہا نہیں چھوڑا بلکہ اس کی رہنمائی کے لیے انبیاء، کتابیں اور ہدایت کے اصول عطا فرمائے۔ اگر انسان کو بغیر رہنماء کے چھوڑ دیا جاتا تو وہ گمراہی، ظلم اور فساد میں مبتلا ہو جاتا۔ اسی لیے تاریخِ انسانیت میں ہر زمانے میں اللہ کے نمائندے موجود رہے۔ رسول اکرمﷺ آخری نبی ہیں، لہٰذا آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا، مگر ہدایت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیتِ اطہارؑ کو مقرر فرمایا۔ یہی ائمہ دین کی صحیح تفسیر، شریعت کی حفاظت اور انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہر امام کو شدید ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ائمہ کو زہر دیا گیا یا شہید کیا گیا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری ذخیرۂ ہدایت، یعنی امام مہدی علیہ السلام کو غیبت میں رکھا، تاکہ وہ محفوظ رہیں اور ایک دن ظاہر ہو کر پوری دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کریں۔
یہی غیبت کا مسئلہ بہت سے لوگوں کے لیے سوال بن جاتا ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غیبت درحقیقت اللہ کی عظیم حکمتوں کا حصہ ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کا تعارف اور مقام
امام مہدی علیہ السلام اہلِ بیتؑ کی بارہویں کڑی ہیں۔ آپ کا نام محمد اور لقب مہدی ہے۔ آپ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ہیں۔ اسلامی روایات میں آپ کو "قائم"، "حجت"، "صاحب الزمان" اور "بقیۃ اللہ" جیسے القابات سے یاد کیا گیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے بارہا آپ کے ظہور کی بشارت دی۔ "مہدی میری اولاد میں سے ہوگا اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔" یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ دنیا کبھی بھی ہدایت سے خالی نہیں ہوگی۔ اگرچہ امام نظروں سے پوشیدہ ہیں، لیکن وہ زندہ ہیں اور اللہ کے حکم سے اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
غیبت کا مفہوم کیا ہے؟
غیبت کا مطلب یہ نہیں کہ امام دنیا میں موجود نہیں یا وفات پا چکے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام زندہ ہیں، مگر عام لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے ایک آسان مثال دی جاتی ہے۔ جیسے سورج بادلوں کے پیچھے چھپ جائے تو ہمیں نظر نہیں آتا، مگر اس کی روشنی اور حرارت باقی رہتی ہے۔ اسی طرح امام بھی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں، مگر ان کی برکتیں اور روحانی اثرات جاری رہتے ہیں۔
غیبت کا فلسفہ اور حکمتیں
اب ہم غیبت کی ہر حکمت کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
1۔ امام کی جان کی حفاظت
یہ حقیقت ہے کہ تاریخ میں کسی امام کو سکون سے زندگی گزارنے نہیں دی گئی۔ ہر امام کو یا تو قید کیا گیا یا شہید کیا گیا۔ عباسی حکمرانوں کو معلوم تھا کہ آخری امام دنیا میں انقلاب برپا کریں گے، اس لیے وہ خاص طور پر امام مہدیؑ کی تلاش میں تھے۔ اگر امام ظاہر ہوتے تو دشمن فوراً انہیں شہید کر دیتے اور اللہ کا وعدہ پورا نہ ہو پاتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں غیبت میں رکھ کر محفوظ کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو فرعون کے ظلم سے بچایا گیا، حضرت ابراہیمؑ کو آگ سے محفوظ رکھا گیا۔ حضرت عیسیٰؑ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا، جب انبیاء کی حفاظت کی جا سکتی ہے تو امام کی کیوں نہیں۔؟
2۔ ایمان کا امتحان
غیبت انسان کے ایمان کا کڑا امتحان ہے۔ جب امام ظاہر ہوں تو ایمان لانا آسان ہوتا ہے، مگر جب وہ نظر نہ آئیں تو یقین رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی اصل امتحان ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں: امام کہاں ہیں؟، کیوں نہیں آتے؟، شاید وہ موجود ہی نہیں؟ یہی شکوک ایمان کو کمزور کرتے ہیں۔ لیکن سچے مومن کہتے ہیں: "چاہے حالات جیسے بھی ہوں، ہمیں اللہ کے وعدے پر یقین ہے۔" یہی حقیقی ایمان ہے۔
3۔ ظالم حکومتوں سے آزادی
اگر امام ظاہر ہوتے تو وقت کے حکمران انہیں بیعت پر مجبور کرتے۔ اگر وہ بیعت کرتے تو انقلاب کا مقصد ختم ہو جاتا اور اگر انکار کرتے تو شہید کر دیئے جاتے۔ لہٰذا اللہ نے انہیں غیبت میں رکھا تاکہ کسی ظالم کی بیعت نہ کریں، مکمل آزادی کے ساتھ قیام کریں، یہ آزادی عالمی انقلاب کے لیے ضروری ہے۔
4۔ انسانیت کی تربیت اور تیاری
عدل کا نظام صرف ایک فرد کے آنے سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے پوری قوم کی تیاری ضروری ہوتی ہے۔ اگر لوگ بدعنوان ہوں، ظالم ہوں، دین سے دور ہوں تو وہ امام کا ساتھ نہیں دیں گے۔ غیبت کا زمانہ دراصل تربیت کا زمانہ ہے۔ یہ ہمیں خود کو بدلنے کا موقع دیتا ہے۔
5۔ سنتِ الہیٰ
اللہ کی سنت ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ اپنے حجت کو بعض اوقات لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھتا ہے۔ حضرت یوسفؑ سالوں اپنے والد سے دور رہے۔ حضرت موسیٰؑ چالیس دن کے لیے طور پر گئے۔ حضرت عیسیٰؑ آج تک زندہ ہیں تو امام مہدیؑ کی غیبت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
6۔ باطنی رہنمائی اور روحانی برکت
اگرچہ امام ظاہر نہیں مگر امت کو تنہاء نہیں چھوڑا گیا۔ امام دعا کرتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں، علماء کی مدد کرتے ہیں، دین کو تحریف سے بچاتے ہیں، ان کا وجود زمین کے لیے امان ہے۔
7۔ امید اور حوصلہ
غیبت ہمیں مایوس نہیں ہونے دیتی۔ یہ یقین دلاتی ہے کہ ظلم ہمیشہ نہیں رہے گا، عدل ضرور آئے گا، نجات کا دن قریب ہے، یہ امید انسان کو زندہ رکھتی ہے۔
ہماری ذمہ داریاں
غیبت صرف انتظار کا نام نہیں بلکہ عمل کا نام ہے.
نتیجہ
غیبتِ امام زمانہ علیہ السلام کوئی اتفاقی یا غیر ضروری واقعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک گہری اور بامقصد حکمت کا حصہ ہے۔ بظاہر اگرچہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ امام ہماری نظروں سے اوجھل ہیں اور ہم ان کی ظاہری رہنمائی سے محروم ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ امام زندہ ہیں، موجود ہیں، ہماری نگرانی فرما رہے ہیں اور اللہ کے حکم سے انسانیت کی ہدایت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غیبت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کا نظام صرف ظاہری اسباب پر موقوف نہیں ہوتا بلکہ بہت سی حقیقتیں ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہوتی ہیں۔ جس طرح ہوا ہمیں نظر نہیں آتی، لیکن اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں، اسی طرح امام کا وجود اگرچہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا، مگر روحانی اور معنوی طور پر پوری امت کے لیے زندگی کا سبب ہے۔
یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ غیبت دراصل کئی اہم مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ یہ امام کی جان کی حفاظت کا ذریعہ ہے، مومنوں کے ایمان کا امتحان ہے، ظالم حکومتوں سے آزادی کا راستہ ہے، انسانوں کی تربیت اور اصلاح کا موقع ہے اور عالمی عدل و انصاف کے قیام کی تیاری کا مرحلہ ہے۔ گویا غیبت ایک خاموش مگر مسلسل الہیٰ منصوبہ ہے، جو انسانیت کو ایک عظیم انقلاب کے لیے تیار کر رہا ہے۔ ساتھ ہی غیبت ہمیں ایک اہم ذمہ داری کا احساس بھی دلاتی ہے۔ یہ ہمیں سستی اور بے عملی کا درس نہیں دیتی بلکہ ہمیں بیدار کرتی ہے کہ ہم خود کو بہتر بنائیں، اپنے اخلاق درست کریں، گناہوں سے بچیں، دین کی خدمت کریں اور ایک صالح معاشرہ تشکیل دیں، کیونکہ امام کا ظہور ایسے ہی لوگوں کے ذریعے ہوگا جو کردار، ایمان اور تقویٰ میں مضبوط ہوں گے۔ اگر ہم واقعی امام کے منتظر ہیں تو ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ان کے مددگار بننے کے قابل ہیں۔
غیبت امید کا چراغ بھی ہے۔ جب دنیا میں ظلم، ناانصافی، جنگیں اور بدامنی پھیلتی ہے تو دل مایوس ہونے لگتا ہے، مگر عقیدۂ مہدویت ہمیں یقین دلاتا ہے کہ یہ اندھیرا ہمیشہ نہیں رہے گا۔ ایک دن ضرور آئے گا، جب امام مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ یہی امید مومن کو ثابت قدم رکھتی ہے اور اسے حق پر قائم رہنے کی طاقت دیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ غیبت کو محرومی نہ سمجھیں بلکہ اسے اللہ کی رحمت اور حکمت سمجھیں۔ ہمیں شکوک و شبہات کے بجائے یقین، صبر اور عمل کو اپنانا چاہیئے۔ ہر دن یہ دعا کرنی چاہیئے کہ "اللّٰهم عجّل لولیک الفرج" اللہ تعالیٰ ہمیں سچا منتظر بنائے، ہمارے دلوں کو ایمان سے مضبوط کرے، ہمیں امام کے ظہور کے لیے تیار کرے اور ہمیں ان کے مددگاروں اور جانثاروں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امام مہدی علیہ السلام عدل و انصاف اللہ تعالی امام ظاہر چاہیئے کہ انسان کو زندہ ہیں کرتے ہیں دنیا میں کی حفاظت نہیں دی ہوتا ہے کہ غیبت کیا گیا کہ امام بلکہ اس غیبت کا ہیں اور اللہ کی اللہ کے ظاہر ہو خود کو کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.