اسرائیل کا اعترافِ جرم!
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی فوج نے پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی جنگ کے دوران تقریباً 70,000 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل غزہ کے محکمۂ صحت کے جاری کردہ اعداد وشمار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتا رہا تھا۔ غزہ کا محکمۂ صحت ہلاک ہونے والے افراد کے نام اور عمریں باقاعدگی سے شائع کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 71,000 سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں اکتوبر میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے 480 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ طویل عرصے سے غزہ کے محکمۂ صحت کے اعداد وشمار کو درست تسلیم کرتا آیا ہے، جبکہ اسرائیل کا اعتراض تھا کہ یہ ادارہ حماس کے زیر ِ انتظام ہے، اس لیے اس پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد اب بھی تباہ شدہ شہروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب، جب اسرائیلی فوج سے اس بارے میں باقاعدہ تبصرہ مانگا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’شائع شدہ تفصیلات سرکاری فوجی اعداد وشمار کی عکاسی نہیں کرتیں اور اس حوالے سے کوئی بھی رپورٹ صرف سرکاری ذرائع سے جاری کی جائے گی‘‘۔ آئی ڈی ایف کے مطابق یہ تعداد صرف ان افراد پر مشتمل ہے جو براہِ راست فوجی کارروائی میں مارے گئے، جبکہ ملبے تلے دبے لاپتا افراد، بھوک یا بیماری سے ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 71,667 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 90 فی صد سے زاید کی شناخت نام اور شناختی نمبرز کے ذریعے ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے ہزاروں نہتے فلسطینیوں کو خاک و خون میں نہلانے کے واضح اعتراف پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسرائیل کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی قانون اور جینوا کنونشن کے تحت فردِ جرم عاید کیا جاتا اور اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جاتا اس کے علی الرغم مظلوم ہی کو مجرم قراردینے کا عمل جاری ہے۔ 70 ہزار افراد کو بم برساکر موت کے گھاٹ اُتارنا کوئی معمولی عمل نہیں، مغربی ممالک اور خود امریکا میں جانوروں تک کے حقوق متعین کیے گئے ہیں، جانوروں کو بلا جواز مارنا، انہیں تشدد کا نشانہ بنانا یا انہیں خوراک، پانی اور علاج سے محروم رکھنا ایک سنگین جرم ہے، جس پر بھاری جرمانے اور قید تک کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں مگر اسرائیل اگر ستر ہزار سے زائد افراد کو شہید، غزہ کے بائیس لاکھ مسلمانوں کو بے گھر کردے، ان پر آگ برسائے، ان پر قحط مسلط کرے، ان کی غذائی اجناس تک رسائی کو ناممکن بنا کر لاکھوں افراد کو موت کے دہانے تک پہنچادے تو یہ جرم نہیں رائٹ آف سیلف ڈیفنس کہلاتا ہے۔ اسرائیل کا اپنی درندگی اور سفاکیت کے اعتراف کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اسرائیل کے لیے اپنی حمایت کی چھتری تانے کھڑے ہیں وہ مصر ہیں کہ بہر صورت حماس ہی کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے، انہیں یقین کی حد تک یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی ہے کہ حماس غیر مسلح ہونے جارہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح کھل کر ڈھٹائی کے ساتھ صہیونی مفادات کا تحفظ کررہے ہیں اسے کسی طور دنیا میں قیام امن کی ان کی خواہش سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا، یہ کھلی منافقت اور مسلم دشمنی ہے۔ امریکی صدر کی کوشش ہے کہ کسی بھی قیمت پر اسرائیل کی دفاع اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، وہ پوری کوشش کررہے ہیں کہ حماس کو کسی بھی طریقے سے غیر مسلح کردیا جائے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میرا یقین ہے کہ حماس جلد ہی اسلحہ ڈالنے جا رہی ہے۔ حماس کے پاس ہتھیار چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا یہاں تک کہ وہ اپنی اے کے 47 رائفلیں بھی حوالے کریں گے۔ جبکہ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی انکشاف کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی پروگرام متعارف کرایا جائے گا جس میں ہتھیار پھینکنے والوں کو رقم، روزگار اور عام معافی دی جائے گی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جنگجوئوں کے لیے اسلحہ پھینک کر مالی فوائد لینے اور عام شہری جیسی زندگی گزارنے کا موقع دینے والا یہ منصوبہ کئی ماہ سے زیر ِ غور ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جسے دیکھتے ہوئے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکا کے نزدیک اب عدل، انصاف، سچائی اور اخلاقی ضابطے اور بین الاقوامی قوانین و انسانی حقوق کے چارٹر کی کوئی اہمیت نہیں، وہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر کارفرما ہیں اور المیہ یہ ہے کہ وہ عالمی برادری جو انسانی حقوق کی پاسداری کا دم بھرتے نہیں تھکتی، وہ بھی ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ یورپی پارلیمنٹ اور امریکا، نہتے فلسطینیوں، حماس، حزب اللہ اور پاسدارانِ انقلاب کو تو دہشت گرد قرار دینے کے لیے تیار ہیں لیکن اسرائیل کو ایک دہشت گرد ریاست اور عالمی عدالتِ انصاف کی جانب سے اسرائیل کے خلاف فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں۔ اسرائیل نے اپنے جن جنگی جرائم کا اعتراف کیا ہے، اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، اتنے بڑے پیمانے پر معصوم انسانوں کو شہید کرنے کے اعتراف کے بعد اب اسرائیل کے پاس نام نہاد رائٹ آف سیلف ڈیفنس کا قانونی جواز بھی ختم ہوچکا ہے، اسے اب مکمل طور پر ایک جارح ریاست قراردیا جانا چاہیے۔ اس اعتراف کی بنیاد پر عالمی عدالت ِ انصاف کو اسرائیل کے خلاف فوری ٹرائل کرنا چاہیے اور اسرائیل کی حمایت کرنے اور اسے اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک پر بھی جنگی جرائم میں معاونت کا جرم عاید کرناچاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل کے کے مطابق کہ حماس کے لیے اور اس
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔