کمشنر بینظیرآباد نے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ (جسارت نیوز)کمشنر شہید بینظیرآباد ڈویژن شہمیر خان بھٹو نے ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے پیشِ نظر شہید بینظیرآباد میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی، فروخت اور ترسیل پر 90 روزہ مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام ڈپٹی کمشنر شہید بینظیرآباد عبدالصمد نظامانی اور ڈویڑنل فاریسٹ آفیسر کی سفارشات پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد قیمتی جنگلاتی درختوں کی غیر قانونی کٹائی، لکڑی کی اسمگلنگ اور ماحولیاتی نقصان کی روک تھام ہے۔کمشنر نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے پابندی فوری طور پر نافذ کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔