فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کشمیر پر تاریخی کردار، جو کہا وہ سچ کر دکھایا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 5 فروری کو کشمیر پر بھارتی تسلط کیخلاف یوم یکجہتی کشمیرمنایا جاتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک سال قبل بھی یوم یکجہتی کشمیر پر مظفرآباد میں کشمیر پر اپنا عزم مصمم دہرایا تھا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا تھا کہ پاکستان اس کی عددی برتری کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے پر مزید 10 جنگیں لڑنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج کی بھارتی جارحیت کے جواب میں شاندار فتح کو دنیا بھرنے بھی تسلیم کیا۔
مزید پڑھیںبیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کا مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی
آزادکشمیر کے شہریوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپہ سالار کی گزشتہ سال یوم یکجہتی کشمیر پر مظفرآباد آمد سے دونوں اطراف کے کشمیریوں کا حوصلہ بڑھا۔
شہری کا کہنا تھا کہ ہمیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مند قیادت پر فخر ہے، فیلڈ مارشل نے گزشتہ سال مسئلہ کشمیر پر جس عزم کا اظہار کیا، مئی 2025 میں اسے پورا کر دکھایا، ہماری مسلح افواج کی شاندار کامیابی سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن ہوا۔
مسئلہ کشمیر پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا واضح موقف مظلوم کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخش رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔