پنجاب میں 5 تا 8 فروری تعطیلات، ادارے 9 فروری کو کھلیں گے
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں تعطیلات کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے اس حوالے سے دو علیحدہ نوٹی فکیشنز بھی جاری کردیے ہیں۔
حکومتی اعلانات کے بعد تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر 5 فروری سے 8 فروری تک بند رہیں گے۔
جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقع پر صوبے بھر میں عام تعطیل ہوگی۔ اس دن کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مختلف سرکاری و عوامی تقریبات کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ قبل ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے بھی پانچ فروری کو تعطیل کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا۔
اسی طرح حکومت پنجاب نے 6 اور 7 فروری، یعنی جمعہ اور ہفتہ، کو بھی عام تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ ان تعطیلات کے ساتھ اتوار کی معمول کی چھٹی شامل ہونے کے باعث صوبے میں مسلسل 4 دن تک سرکاری اور تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام اسکول، کالجز، جامعات اور سرکاری دفاتر 9 فروری بروز پیر دوبارہ کھلیں گے۔
فیصلے سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے لاہور اور پنجاب کے عوام کو 7 فروری کو لبرٹی چوک میں بسنت کا جشن منانے کی دعوت دی۔ ان کے پیغام کے بعد صوبے میں تعطیلات سے متعلق قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں، جو باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ختم ہو گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ شہریوں کو طویل ہفتہ وار چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا جائے گا، جس کا مطلب تھا کہ 5 فروری کو یوم کشمیر، 6 فروری کو صوبائی سطح پر بسنت کی چھٹی اور اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کی تعطیل شامل ہے، جس سے عوام کو ایک طویل وقفہ میسر آئے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔