ٹیسٹ میچز میں سنسنی برقرار رکھنے کے لیے قانون میں تاریخی تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اہم تبدیلی متعارف کرا دی گئی ہے جسے کھیل کی روایت میں ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) نے ’لاز آف کرکٹ‘ کے نئے ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے دن کے اختتام سے متعلق قانون میں بنیادی تبدیلی کر دی ہے، جس کے بعد ٹیسٹ میچز کے آخری لمحات اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔
اس فیصلے کا مقصد کھیل میں توازن، مقابلے کی شدت اور شائقین کی دلچسپی کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔
نئے قانون کے مطابق اگر ٹیسٹ میچ کے دن کے آخری اوور میں کوئی وکٹ گرتی ہے تو کھیل وہیں ختم نہیں ہوگا، بلکہ نیا بیٹر میدان میں آ کر اسٹرائیک سنبھالے گا اور باقی گیندیں بھی کروائی جائیں گی۔
اس سے قبل رائج قانون کے تحت اگر آخری اوور میں وکٹ گر جاتی تو بیٹنگ ٹیم نیا کھلاڑی میدان میں نہیں بھیجتی تھی اور دن کا کھیل ختم کر دیا جاتا تھا، جس پر طویل عرصے سے تنقید کی جا رہی تھی۔
ایم سی سی کی ذیلی کمیٹی برائے قوانین کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے بنیادی سوچ یہ تھی کہ بیٹنگ اور بولنگ سائیڈ کے درمیان منصفانہ توازن قائم رکھا جائے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ جب حالات بولنگ کے حق میں ہوں، روشنی مدھم ہو اور پچ پر موومنٹ موجود ہو تو عین اسی وقت کھیل روک دینا بولنگ ٹیم کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے اور میچ کی فطری سنسنی بھی متاثر ہوتی ہے۔
ایم سی سی کا کہنا ہے کہ سابقہ قانون میں یہ صورتحال اکثر دیکھنے میں آتی تھی کہ فیلڈنگ سائیڈ آخری اوور میں وکٹ حاصل کر لیتی، مگر بیٹنگ سائیڈ نیا بیٹر بھیجنے سے گریز کرتی اور اگلے دن کھیل دوبارہ شروع ہوتا۔ اس وقفے سے نہ صرف دباؤ ختم ہو جاتا بلکہ بولرز کو حاصل ہونے والا فائدہ بھی ضائع ہو جاتا، جو مقابلے کی روح کے منافی تھا۔
نئے قانون 12.
اس اہم تبدیلی کے ساتھ ایم سی سی نے قوانین میں مجموعی طور پر 73 ترامیم متعارف کرائی ہیں، جن میں ہٹ وکٹ، اوور تھرو اور دیگر تکنیکی نکات شامل ہیں۔ یہ تمام نئے قوانین یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گے، جس کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ متحرک نظر آئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آخری اوور ایم سی سی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔