افغانستان سے دہشت گردی میں خطرناک اضافہ، تاجکستان بارڈر پر خونریز جھڑپیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
دی ٹائمز آف سنٹرل ایشیا کے مطابق، تاجکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے ملحقہ سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے تین افغان دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دو دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ افغان طالبان کی حکومت اپنے وعدوں کے برعکس افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہمسایہ ممالک کو شدید سکیورٹی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دی ٹائمز آف سنٹرل ایشیا کے مطابق، تاجکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے ملحقہ سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے تین افغان دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دو دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی مقدار میں منشیات بھی برآمد کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس سے قبل 18 جنوری کو بھی تاجک سکیورٹی فورسز نے سرچا شمہ بارڈر پر افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے چار افغان دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ نومبر سے اب تک تاجکستان میں افغانستان کی سرحد سے منسلک علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے ٹھوس شواہد عالمی اداروں کے سامنے متعدد بار پیش کر چکا ہے، تاہم عالمی برادری کی جانب سے مؤثر اور عملی اقدامات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں کو نہ صرف افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے بلکہ اسے روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔
دی ٹائمز آف سنٹرل ایشیا کے مطابق، گزشتہ برس افغانستان سے ہونے والے دو الگ الگ دہشت گرد حملوں میں پانچ چینی مزدور بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔اسی طرح دسمبر 2025ء میں سرچاشمہ بارڈر پر افغان دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران دو تاجک سکیورٹی اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی اب خطے کے ہمسایہ ممالک کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے مؤثر تدارک کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان دہشت گردوں افغانستان سے سے ہونے والی کے مطابق
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔