قصور: 4 سالہ بچی سے زیادتی، علاج کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں زیادتی کا نشانہ بننے والی 4 سالہ بچی کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔
بچی کو تشویش ناک حالت میں پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال قصور اور پھر وہاں سے جنرل اسپتال لاہور منتقل کیا گیا تھا۔
ایم ایس جنرل اسپتال لاہور نے بچی کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کی شناخت نہیں ہوسکی ہے، ان کے ورثاء کی تلاش جاری ہے۔
وزیرِ قانون پنجاب رانا محمد اقبال نے قصور میں 4 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کے واقعےکا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او قصور سے رپورٹ طلب کر لی اور انہیں ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔
انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو متاثرہ بچی کے بہترین علاج کی ہدایت دی اور کہا کہ معصوم بچی کے ساتھ ظلم کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔
واضح رہے کہ قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں 4 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
پولیس کے مطابق آپریشن کے بعد بچی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، نامعلوم ملزمان پر واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے، اس کے ورثاء کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک