لکی مروت میں پولیس کانسٹیبل اہلخانہ کے سامنے قتل، مسلح افراد نے گھر کو آگ لگادی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزمان نے کانسٹیبل دستگیر کے گھر کو آگ بھی لگا دی، جس سے گھر کے اندر موجود سامان کو نقصان پہنچا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی اور شواہداکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے کو گھیرے میں لیا۔ اسلام ٹائمز۔ لکی مروت میں پولیس کانسٹیبل کو گھر میں گھس کر فائرنگ سے قتل کردیا گیا جب کہ مسلح افراد نے گھر کو بھی آگ لگادی۔ پولیس کے مطابق واقعہ سرائے نورنگ کے گاؤں نصر خیل میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے رات گئے پولیس کانسٹیبل دستگیر کو اس کے گھر میں گھس کر اہل خانہ کے سامنے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور اچانک گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کانسٹیبل دستگیر موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزمان نے کانسٹیبل دستگیر کے گھر کو آگ بھی لگا دی، جس سے گھر کے اندر موجود سامان کو نقصان پہنچا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی اور شواہداکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے کو گھیرے میں لیا۔ کانسٹیبل کی شہادت اور گھر کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جب کہ شہریوں میں خوف و ہراس بھی پھیل گیا۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش اورملزمان کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کانسٹیبل دستگیر گھر کو
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔