بھارت کیخلاف میچ سے انکار؛ کیا آئی سی سی پاکستان کے 34 ملین ڈالرز کے فنڈز روک سکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان ورلڈ کپ کے میدان میں تو اتر رہا ہے لیکن اگر وہ 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا سخت فیصلہ کر لے تو کیا آئی سی سی واقعی پاکستان کا ساڑھے چونتیس ملین ڈالر کا ریونیو روکنے کی طاقت رکھتا ہے؟ یہ دھمکی بظاہر جتنی سنگین دکھائی دیتی ہے، حقیقت میں اس کی قانونی اور اخلاقی بنیادیں اتنی ہی کمزور ہیں۔
پاکستان کا مؤقف بڑا واضح ہے کہ کرکٹ یکطرفہ نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی ملک پاکستان آ کر کھیلنے سے انکاری ہے تو پاکستان کو بھی اپنے وقار کی خاطر سخت فیصلے لینے کا پورا حق ہے۔
اس معاملے میں پاکستان کا حالیہ فیصلہ دراصل بھارت کی اس "چوہدراہٹ" کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے جو وہ کرکٹ کی دنیا پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ جب بنگلا دیش نے سیکیورٹی خدشات کے باوجود بھارت سے باہر یعنی سری لنکا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تو بھارت نے ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے انہیں اپنے ملک سے باہر کھیلنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔
پاکستان نے اس موقع پر نہ صرف بنگلا دیش کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ بھارت کے اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کے لیے 15 فروری کا میچ نہ کھیلنے کا جرات مندانہ فیصلہ کر لیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کرکٹ کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں ہے۔
مزید پڑھیںورلڈ کپ کے لیے جارہے ہیں جو بورڈ کہے گا وہی کریں گے، سلمان علی آغا
اگر ہم اعداد و شمار کی زبان میں بات کریں تو آئی سی سی کی کل سالانہ آمدنی تقریباً 408 ملین ڈالر بنتی ہے۔ اس کا 65 فیصد حصہ یعنی 265 ملین ڈالر صرف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ ون ڈے ورلڈ کپ کا سالانہ حصہ 35 فیصد یعنی 143 ملین ڈالر ہے۔ آئی سی سی کے موجودہ ریونیو ماڈل کے تحت بھارت کو 230 ملین ڈالر ملتے ہیں، جبکہ پاکستان کا حصہ 34.
تکنیکی طور پر، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آئی سی سی کے چار سالہ ریونیو سائیکل کا 32.5 فیصد بنتا ہے۔ اگر پاکستان اس میگا ایونٹ کے سب سے بڑے میچ کا بائیکاٹ کرتا ہے، تو وہ پورے ٹورنامنٹ کی کمرشل ویلیو کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ حساب لگایا جائے تو ایک ورلڈ کپ کی عدم شرکت پاکستان کے سالانہ حصے سے بھی 30 فیصد زیادہ نقصان کا جواز پیدا کر سکتی ہے، یعنی آئی سی سی 34.5 ملین ڈالر کے بجائے 44.8 ملین ڈالر تک کے کلیم کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک رخ ہے؛ پاکستان یہ قانونی دفاع رکھ سکتا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے باقی تمام میچز کھیل کر ایونٹ کی رونق اور مالیات میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہا ہے، لہٰذا محض ایک میچ کی بنیاد پر اس کا سالانہ حق مارنا صریحاً ناانصافی ہوگی۔
پاکستان کا آئی سی سی میں حصہ کوئی خیرات نہیں بلکہ اس کی برانڈ ویلیو کا صلہ ہے۔ پاکستان کی ٹیم کے بغیر کوئی بھی ورلڈ کپ اپنی کشش کھو دیتا ہے۔ اگر آئی سی سی فنڈز روکنے کی ضد کرتا ہے، تو پاکستان کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو۔ پاکستان ایک ایسی مارکیٹ ہے جو بیرونی بیساکھیوں کے بغیر بھی اپنا وقار برقرار رکھ سکتی ہے۔ درحقیقت، پاکستان کا یہ بائیکاٹ بھارت کی اجارہ داری ختم کرنے کی طرف پہلا بڑا قدم ہے۔
یہ عالمی کرکٹ کے ٹھیکیداروں کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اب فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر ہوں گے۔ یہ پاکستان کے حق کی آواز ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ عزتِ نفس اور علاقائی ممالک کے ساتھ یکجہتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، چاہے سامنے کتنا ہی بڑا مالیاتی دباؤ کیوں نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کا پاکستان کے ملین ڈالر ورلڈ کپ
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔