جعلی حکومت لوگوں کاامن اورخوشی چھین لیتی ہے،مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راجن پور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ جعلی حکومت وہ ہوتی ہے جو بے حس ہوتی ہے وہ جو لوگوں کا حق، ترقی، سکون اور امن کھا جاتی ہے۔
راجن پور میں گرین بس سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کا کوئی چپہ ایسا نہیں جہاں ترقیاتی کام نہ ہو رہا ہو اور خیبرپختونخوا کے لوگ وزیراعلیٰ سے سوال کر رہے ہیں۔
کے پی حکومت نے ہم سے ستھرا پنجاب کا ماڈل مانگا جو ہم نے دے دیا ہے، میں بھی یہی ماڈل پیش کرنے کے لیے برازیل گئی تھی، سیر کرنے نہیں۔
تم اگر دنیا کے کسی ملک میں جائوتو کیا کہو گے لوگوں کو شعور دیا؟ کیا شعور سے کسی کا پیٹ بھرتا ہے، میرے بچو! یاد رکھنا جعلی حکومت وہ ہوتی ہے جو لوگوں کا حق چھین لیتی ہے۔
جعلی حکومت وہ ہوتی ہے جو لوگوں کی ترقی چھین لیتی ہے، جعلی حکومت وہ ہوتی ہے جو لوگوں کا سکون چھین لیتی ہے۔
جعلی حکومت وہ ہوتی ہے جو لوگوں کا امن اور خوشی چھین لیتی ہے، جب تک عوام حکمرانوں سے سوال نہیں کریں گے حکومتیں سوئی رہیں گی۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ جب لوگ پنجاب کا نقشہ دیکھتے ہیں تو راجن پور کو آخری ضلع سمجھتے ہیں مگر میرے دل کے نقشے میں پنجاب کی شروعات راجن پور سے ہوتی ہے۔
راجن پور لاہور سے دور ضرور ہے مگر نواز شریف اور مریم نواز کے دل سے دور نہیں، یہاں کے بلوچ بھائیوں کی پگڑی، بلوچی ٹوپی اور بلوچی چادر قابل احترام ہیں۔
میں راجن پور آئی تو مجھے ہیلی کاپٹر سے آنے کا کہا گیا مگر میں نے کہا کہ میں گاڑی سے آئوں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ الزام لگایا جاتا ہے ترقی کے کام صرف لاہور اور وسطی پنجاب تک محدود رہتے ہیں مگر آج حقیقت سب کے سامنے ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جو لوگوں کا مریم نواز راجن پور
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔