اسلام ٹائمز: پروگرام کا باقاعدہ آغاز ساڑھے تین بجے تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ جسکے بعد یک جہتی کونسل کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ کرم یک جہتی کونسل میں شامل تنظیموں میں سے تحریک حسینی کے صدر ماسٹر یونس علی، نائب صدر علامہ سید امین شاہ، مجلس علماء اہلبیت کے مولانا سید علی شاہ، تحفظ ملت کے رہنما مسرت حسین منتظر، آئی او کے ماسٹر سید رضا حسین اور آئی ایس او کے برادر منتظر حسین نے یکے بعد دیگرے خطاب کیا۔ پروگرام کا مقصد عوام کو اس رات کے حقیقی مقصد اور روح سے روشناس کرانا تھا۔ علامہ سید امین شاہ نے کہا کہ 15 شعبان کو روایتی خوشی منانے کی بجائے اسکی روح سے آشنائی ضروری ہے۔ ہمیں تعلیمات محمد وآل محمد سے خود کو آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا امام مہدی کے انقلاب کے لئے آمادگی اور تیاری ضروری ہے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: استاد حسینی

14 شعبان المعظم شام ساڑھے 3 بجے قومی یکجہتی کونسل پاراچنار کے زیر اہتمام پنجابی بازار پاراچنار میں ایک پرنور اور پروقار پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں بازار اور اطراف سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر پنجابی بازار کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ پنجابی بازار کے بالائی حصے یعنی شمال میں ایک خوبصورت سٹیج سجایا گیا تھا۔ اور نیچے امام بارگاہ گلی تک سینکڑوں کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ کرسیوں کے اختتام پر ایک طرف یخنی کا سبیل لگایا گیا تھا۔ جہاں پر شرکاء کو گرم گرم یخنی سے پذیرائی کی جاتی تھی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز ساڑھے تین بجے تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ جسکے بعد یکجہتی کونسل کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ کرم یکجہتی کونسل میں شامل تنظیموں میں سے تحریک حسینی کے صدر ماسٹر یونس علی، نائب صدر علامہ سید امین شاہ، مجلس علماء اہلبیت کے مولانا سید علی شاہ، تحفظ ملت کے رہنما مسرت حسین منتظر، آئی او کے ماسٹر سید رضا حسین اور آئی ایس او کے برادر منتظر حسین نے یکے بعد دیگرے خطاب کیا۔ پروگرام کا مقصد عوام کو اس رات کے حقیقی مقصد اور روح سے روشناس کرانا تھا۔ 

علامہ سید امین شاہ نے کہا کہ 15 شعبان کو روایتی خوشی منانے کی بجائے اسکی روح سے آشنائی ضروری ہے۔ ہمیں تعلیمات محمد وآل محمد سے خود کو آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا امام مہدی کے انقلاب کے لئے آمادگی اور تیاری ضروری ہے۔ اور یہ کہ اس انقلاب کے لئے تیاری کرنے والے اقوام کی کمک کرنا اس کا اصل مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایران کفر کے مقابلے پر تنہا کھڑا ہے۔ اور انقلاب مہدی کے لئے زمینہ فراہم کررہا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہئے کہ ہم انکی آواز میں آواز ملائیں اور انکے ساتھ ہر طرح کی سیاسی، روحانی، مالی، سماجی اور اخلاقی تعاون کریں۔ 

تحریک حسینی کے صدر ماسٹر یونس علی نے کہا کہ علاقائی ترقی اور مسائل کے حل کے لئے باہمی اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے۔ کرم کے قبائل میں الحمد للہ آج اتحاد کافی حد تک مضبوط ہے۔ پھر بھی مسائل کی کوئی کمی نہیں۔ مسائل کی اصل جڑ زمینی مسائل ہیں۔ جس میں حکومت کما حقہ دلچسپی نہیں لے رہی۔ جنگوں سے علاقے کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے، فریقین شیعہ سنی میں سے کوئی بھی جنگ کے حق میں نہیں۔ سب امن کے خواہاں ہیں۔ مگر پتہ نہیں کہ پھر بھی امن قائم نہیں ہورہا، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر پلیت فارم پر قوم کی آواز پہنچائی ہے۔ تاہم کوئی بھی فیصلہ عملی نہیں ہورہا۔ تحفظ ملت کے رہنما مسرت حسین نے کہا کہ علاقے میں ایک سازش کے تحت منشیات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ہمارے جوانوں کو اخلاقی طور پر تباہ کیا جارہا ہے۔ جس میں سب سے بڑا رول خود حکومت کا ہے۔ پروگرام کا اختتام شام ساڑھے پانچ بجے دعائے امام زمانہ سے کیا گیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ سید امین شاہ یکجہتی کونسل انہوں نے کہا پروگرام کا نے کہا کہ خطاب کیا ضروری ہے کیا گیا کے لئے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت