پشاور، ناکہ بندی پر فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، مطلوب اشتہاری گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پشاور:
پشاور کے علاقے حیات آباد میں ناکہ بندی کے دوران رکنے کے اشارے پر نہ رکنے والی گاڑی پر پولیس فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق ناکے پر موٹر کار سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم وہ فرار ہونے لگے، جس پر تعاقب کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران طلحہٰ ولد منظور سکنہ سفید ڈھیری گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
مزید پڑھیںپشاور: سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک
پشاور میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان کو قتل کرنے والے ملزمان ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے گاڑی سے قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں مطلوب اشتہاری راضی خان ولد گل خان کو گرفتار کر لیا گیا۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ ایس پی کینٹ ڈویژن عبد اللہ احسان کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔