آپ نے کوئی ایسا ادارہ تو اپنی زندگی میں دیکھا ہی ہوگا جس کے سامنے سے گزرنے والا اس کی پرشکوہ عمارت کی جانب متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا اور وہ متوجہ ہی نہیں متاثر بھی ہوتا۔ اسی سبب اس کے دماغ میں سوالات انگڑائیاں لینے لگتے۔ وہ سوالات جو اس ادارے سے متعلق جاننے اور سمجھنے سے جڑے ہوتے۔
سوالات کے جواب کہیں نہ کہیں سے مل جاتے تو پتا چلتا کہ ادارے کی صرف عمارت ہی پرشکوہ نہیں، اس کا داخلی نظام بھی اعلیٰ درجے کا ہے۔ منیجمنٹ نہایت منظم، تنخواہیں مثالی اور مقاصد کے حصول میں کوئی کوتاہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ اس ادارے کے کوئی تاریک گوشے ہوتے ہی نہیں۔ تاریک گوشے اور کوئی نہ کوئی دونمبری ہر ادارے میں ہوتی ہے۔ کیونکہ ادارے فرشتے نہیں انسان چلا رہے ہوتے ہیں۔ اور خطا کا یہ پتلا انفرادی ہی نہیں اجتماعی شکل میں بھی خطاؤں کی دھار ضرور چھوڑتا ہے۔ مگر جب کوئی ادارہ اپنے مثالی دور سے گزر رہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ادارے کے امور پر منیجمنٹ کا کنٹرول اعلی درجے کا ہے۔ اعلیٰ درجے کے اس کنٹرول کے نتیجے میں ادارے کے تاریک امور مستور رہتے ہیں۔ کوئی چیز باہر نہیں آپاتی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟
لیکن جب ادارے کی ٹاپ لیڈرشپ میں 8 سال کے لیے چھوٹا بش، چار سال کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ، اگلے 4 سال کے لیے جوبائیڈن اور اس سے اگلے 4 سال کے لیے ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا سی ای او آجائے تو پھر بیچ میں اوباما جیسے سی ای او کے 8 سال محض ایک وقفے کی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ادارہ زوال کا شکار ہونے لگتا ہے، مثال ڈسپلن پھررر کرکے اڑجاتا ہے، حتی کہ مالیاتی نظام بھی بگڑ جاتا ہے۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے ؟ یہی کہ ’کنٹرول‘ پہلے ڈھیلا پڑا اور اب ختم ہو رہا ہے۔ جب کنٹرول ختم ہوتا ہے تو ادارے کے نفیس گٹروں پر دھرے فولادی ڈھکن ہلنے لگتے ہیں اور غلاظت باہر آنے کی ضد پکڑ لیتی ہے۔
جیفری ایپسٹین فائلز اس بات کا کھلا اظہار ہے کہ مغربی تہذیب کا کنٹرول اب ڈھیلے پن سے مکمل خاتمے کی سٹیج تک پہنچ گیا ہے۔ ذرا غور کیجیے، کئی سال قبل جب یہ اسکینڈل پہلی بار سامنے آیا تھا تو 2،3 لڑکیاں تھیں جو اس دعوے کے ساتھ سامنے آگئی تھیں کہ جیفری ایپسٹین نے کم عمری میں ان کا ریپ کروایا ہے اور بھی نامور لوگوں کے ہاتھوں۔ کسی کے کان پر جوں رینگی؟ قطعاً نہیں۔ کسی امریکی کان پر جوں رینگنے میں کئی سال لگ گئے اور جب کارروائی ہوئی تو سزا کیا دی گئی؟ 18 ماہ کی قید جس میں جیفری ایپسٹین کو دن کے وقت 12 گھنٹے جیل سے باہر گزارنے کی بھی آزاد تھی۔ اور اس سزا کی بھی اس نے صرف 13 ماہ کی مدت مکمل کی۔ یہ سزا ایک پلی بارگین کا نتیجہ تھی۔ آپ امریکی عدالتی نظام کی نام نہاد شفافیت دیکھیے کہ اس پوری ڈیل کو خفیہ قرار دے کر پبلک کی رسائی سے باہر کردیا گیا۔ اور ڈیل کروانے والا وکیل الیگزینڈر کوسٹا آگے چل کر صلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت میں وزیر محنت بنا۔ وزارت کا انتخاب یقیناً سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ کوسٹا نے ایپسٹین اسکینڈل کے گٹر پر ڈھکن جمانے میں بڑی محنت کی تھی۔
مگر کنٹرول تو ڈھیلا پڑ چکا تھا۔ اور دن بدن مزید ڈھیلا پڑتا جا رہا تھا، بات بنی نہیں۔ گٹر کا ابال ہرگزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہا تھا۔ یوں جب ڈھکن ایک بار پھر سرکا تو وہی ہوا جو امریکا میں ہر بے قابو ڈھکن کے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے۔ وہی جو جان ایف کینیڈی سے لے کر مالکم ایکس تک پتا نہیں کتنوں کے ساتھ ہوا تھا۔ ذرا اگلی سطر پر اسی درجے کا غور کیجئے جس درجے کا غور بسا اوقات علامہ طالب جوہری اپنے سامعین سے مانگا کرتے۔ جیفری ایپسٹین کو ’انتہائی محفوظ‘ جیل پہنچا دیا گیا۔ اور اس انتہائی محفوظ جیل میں اس کی کی پراسرار موت ہوگئی۔ ہے ناں مزے کی بات ؟ پتا نہیں کیوں سبحان اللہ پکارنے کو بہت جی کر رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ جب ہم مذہبی لوگوں کے ہاں ایسی صورتحال نصرت خداوندی کہلاتی ہے۔ جس پر سبحان اللہ کے ڈونگرے واجب ہوجاتے ہیں۔
مگر جیفری ایپسٹین لبرل مغربی تہذیب کا نمائندہ تھا۔ اور لبرلزم تو ذاتی و اجتماعی دونوں طرح کی زندگیوں سے خدا کو خارج کرچکا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ نصرت خداوندی والی آپشن تو کام نہیں آسکتی۔ اور وہ کام آئی بھی نہیں۔ گٹر ایک بار پھر نئے جوش سے ابلنے کو بیتاب تھا۔ ایپسٹین کی شریک جرم گزلین میکسویل جیل میں تھی۔ یوں وہ بھی تو ایک ڈھکن ہی تھی۔ مگر دو ڈھکن ایک ہی انجام سے دوچار ہوتے تو یہ نصرت خداوندی سے بھی آگے والی اسٹیج ہوجاتی اور آگے بلیک ہول تھا۔ بلیک ہول سے ملحدین کے امام اسٹیفن ہاکنگ یاد آگئے، جو دفن تو قبر میں کیے گئے تھے مگر وہ قبر شاید جیفری ایپسٹین والے گٹر کی سیوریج لائن پر بنی تھی، یوں ان حضرت کو بھی ابلتے گٹر نے باہر لا پھینکا ہے۔ برطانیہ میں مقیم ہمارے وکیل دوست انعام رانا نے اسی تناظر میں ان پر کیا مہلک ون لائنر جمایا ہے۔ لطف لیجیے اس کا
’Stephan Hawking was damn serious about his search for black holes‘
کسی کو یاد ہے ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی وعدوں میں سے ایک اہم وعدہ یہ بھی تھا کہ صدارت سنبھالتے ہی جیفری ایپسٹین فائلز عوام کے آگے رکھ دوں گا ؟ لیکن جب ان کی اٹارنی جنرل پیم بانڈی نے آگاہ فرمایا کہ حضور ! ادھر تو آپ کے ہی نام ڈنکا ہے تو شیطان بزرگ کی مجلس شوری میں طے پایا کہ ان فائلز کے وجود سے ہی انکار کردو۔ سو وہی پیم بانڈی اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل اس موقف کے ساتھ سامنے آگئے کہ جیفری ایپسٹین فائلز نام کی تو کوئی شئی وجود ہی نہیں رکھتی۔ کسی صحافی نے نک چڑھے ٹرمپ سے بھی پوچھ لیا۔ یاد ہے کس معصومیت سے جوابا سوال ہی پوچھ ڈالا تھا
’کیا لوگ اب بھی اس فضول کیس میں دلچسپی لے رہے ہیں ؟ او مائی گاڈ مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا‘
اور بالآخری ٹرمپ کے سب سے وفادار اراکین کانگریس نے ہی تہیہ کرلیا کہ وہ تو یہ فائلز پبلک کروا کر ہی دم لیں گے۔ یوں جن فائلز کا بقول امریکی اٹارنی جنرل و ایف بی آئی چیف وجود ہی نہیں تھا وہ تیس لاکھ کی تعداد میں منظر عام پر آگئیں۔گٹر ابل پڑا ہے، اور وہ سب باہر پھینک رہا ہے جو اچھے وقتوں میں ’کنٹرول‘ میں تھا۔
مزید پڑھیے: کیمرے کا نشہ
المیہ یہ ہے کہ ہمارے لوگ اس کیس کی سیرینس کو سمجھ ہی نہیں پا رہے۔ انہیں لگتا ہے یہ بھی ماضی کے سیکس اسکینڈلز جیسا ایک اسکینڈل ہے مگر ذرا بڑے پیمانے کا۔ارے نہیں بھئی ! یہ اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔ ایک ہوتا ہے ریاستی ڈھانچہ اور اس کے باشندے۔ اور ایک ہوتی ہے وہ روح جس کے دم سے وہ ریاست چل رہی ہوتی ہے۔ مثلاً اسلامی ریاست میں اسلام اور لبرل ریاست میں لبرلزم۔ وہی لبرلزم جس کے نمائندے پچھلے 80 سال سے ہمارے دارالحکومتوں میں آ آ کر بس ایک ہی بات کہتے
’تم لوگ بہت گھٹیا ہو، تمہارا امیج مسخ ہوچکا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لوگ خدا، اس کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب پر یقین رکھتے ہو۔ اسی لیے تم ترقی بھی نہیں کرپا رہے۔ ہمیں نہیں دیکھتے ہم نے مذکورہ 3 سے جان چھڑائی تو کتنی ترقی کرگئے؟ ہمارے ہاں پلیٹ ہوتی ہے، تمہارے ہاں رکابی وہ بھی اسٹیل کی۔ اور تو اور ہمیں تم پر اخلاقی برتری بھی حاصل ہے۔ تمہارے پیغمبرانہ اخلاق ہمارے آگے فیل ہوچکے‘۔
نتیجہ یہ کہ ہر ملاقات کے اگلے روز ہمارے حکمران ٹی وی پر نمودار ہوجاتے اور فرماتے
’میرے عزیز ہم وطنو ! ہمیں اپنا ایمج بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا کل سے حکومت ایمج چمکانے والی پالش تقسیم کرے گی‘۔
اور ہمارے کالم نگار ! خدا کی پناہ ! حسن نثار جیسوں کو تو موقع مل جاتا یہ باور کرانے کا کہ لبرلزم کیسی عظیم الشان نعمت ہے۔ خدا سے بغاوت یا کم سے کم لاتعلقی تو اختیار کرنی چاہئے تاکہ ہم بھی ترقی کرسکیں اور رکابی کی جگہ پلیٹ میں کھانا کھا سکیں۔ اسی ماحول میں ایک جملہ رفتہ رفتہ زبان زد عام ہونے لگا، ایک روح لرزا دینے والا جملہ
’مغرب کے اخلاق صحابہ جیسے ہیں، بس اتنا سا فرق ہے کہ انہوں نے کلمہ نہیں پڑھ رکھا‘۔
اور تہذیبوں کے اس فکری تصادم میں اخلاقی برتری کی نسبت سے مغرب کا سب سے طاقتور ٹول کیا تھا؟ حقوق نسواں ! وہی حقوق نسواں جس کی آنٹیاں موم بتیاں جلاتیں اور پلے کارڈز پر مسلم بیٹیوں کے برقع کا تمسخر اڑاتیں۔ آزادی، اور حقوق نسواں لبرلزم کے سب سے طاقتور ستون تھے۔ جیفری ایپسٹین فائلز میں وہی منہدم ہوگئے ہیں۔ کیونکہ ان فائلز نے یہ حقیقت طشت از بام کردی کہ لبرلزم میں آنٹیاں حقوق نسواں کا شور بلند رکھ کر لوگوں کو اپنی جانب متوجہ رکھتیں اور پچھلی گلی میں جیفری ایپسٹین کے ٹارچرسیلز میں معصوم نابالغ بچیوں کے ریپ ہوتے۔ وہ ریپ جس میں وہ اسٹیفن ہاکنگ بھی موجود ہوتا جس کے متعلق بتایا گیا تھا کہ اس کی صرف انکار خدا والی زبان ہی حرکت کرتی ہے۔ اب جاکر عقدہ کھلا کہ موصوف کا تو اور بھی بہت کچھ حرکت کرتا تھا۔
مزید پڑھیں: کینیڈا کے انڈے
کیا آپ جانتے ہیں جیفری ایپسٹین فائلز کے تناظر میں مسلم دنیا کے سفارتی حلقوں میں مشاورت کا عمل شروع ہوچکا؟ مسلم سفارتی مشنز نے ان مغربی سفارتکاروں کو ملیامیٹ کرنے کے لیے اپنے مؤقف ترتیب دینے شروع کردیے ہیں جو اخلاقی برتری کے زعم کے کے ساتھ ہمارے دارالحکومتوں میں دندناتے پھرتے۔ مسلم سفارتی مشنز آلریڈی اس نتیجے پر پہنچ چکے کہ چونکہ یہ کسی فرد واحد کا معاملہ نہیں بلکہ پوری امریکی و مغربی اشرافیہ اس میں کسی نہ کسی درجے میں ملوث ہے سو سزا کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یوں یہ جوابی وار ابھی سے مسلم سفارتکار تیار کرچکے
’اگر تم اپنے طاقتور درندوں کو نہیں پکڑ سکتے تو ہمیں نصیحت کس منہ سے؟‘
’تم کہتے تھے اپنا ایمج بہتر کرو، بتائیے کیسے کریں؟ اپنے ہاں جیفری ایپسٹین اور اس کے منظم ریپ کدوں کو وجود بخش دیں؟‘
’تم کہتے تھے خواتین کے حقوق ٹھیک سے ادا کرو۔ بتاؤ اسی طرح اداکریں جس طرح تم سالہا سال سے ایپسٹین آئی لینڈ پر ادا کرتے رہے؟ نابالغ بچوں اور بچیوں کا اپنی اشرافیہ سے ریپ کروانا شروع کردیں ؟‘
کیا آپ جانتے ہیں جب مغرب کے ٹاپ سفارتکار یعنی وزرائے خارجہ جب پاکستان جیسے مسلم ملک پہنچ کر ہمارے حکمرانوں کو لیکچرز دیتے توان کے 3 بڑے حوالے کیا ہوتے؟ خواتین کے حقوق، بچوں کا تحفظ، انسانی وقار۔ خواتین کے حقوق کے نام پر وہ ناجائز جنسی تعلق کی آزادی مانگتے۔ بچوں کے تحفظ کے نام پر کہتے مستری کی ورکشاف میں ’چھوٹا‘ کیوں ہوتا ہے؟ اور انسانی وقار کے نام پر ہم جنس پرستی کی کھلی چھوٹ کا تقاضا کرتے۔ اپنے ایمان سے بتائیے ان موضوعات پر اب یہ منہ کھولنا تو دور منہ دکھانے کے بھی لائق بچے ہیں؟
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں
ہم جانتے ہیں لنڈا بازار کی گلیوں میں خفیف سی سہی مگر یہ سرگوشی ہوگی ’بڑے ایسے نکلے، مغرب کے عوام اچھے ہیں‘ سو اہم اعداد و شمار نہیں دیتے۔ وہ آپ خود گوگل یا اے آئی کی مدد سے سرچ کر لیجیے۔ سرچ کیا کرنا ہے وہ ہم بتا دیتے ہیں۔ پہلے نمبر پر یہ سرچ کیجیے کہ امریکا میں ایک سال کے دوران ریپ کے واقعات کتنے لاکھ ہوتے ہیں؟ دوسرے نمبر پر یہ سرچ کیجیے کہ امریکا کی کتنی فیصد بچیاں 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل جنسی درندگی کا شکار ہوچکی ہیں؟ تیسری چیز یہ سرچ کیجیے سگے یا سوتیلے باپ کے ہاتھوں ایک سال میں کتنی بچیاں جنسی درندگی کا شکار بنتی ہیں؟ یہ جو آپ کو امریکی فٹ پاتھوں پر بے گھر معصوم بچیاں نظر آتی ہیں ان میں سے بڑی تعداد وہ ہے جو باپ یا بھائی کی جنسی درندگی سے جان بچانے کے لیے گھر سے بھاگی ہیں۔ سو بات محض اشرافیہ کی نہیں ہے۔ لبرلزم اشرافیہ سے لے کر گراس روٹ لیول تک تباہی مچا چکا۔ اور اب یہ کھوکلی عمارت وجودی طور پر بھی اور فکری لحاظ سے بھی منہدم ہو رہی ہے۔ جیفری ایپسٹین فائلز محض سیکس اسکینڈل نہیں مغربی تہذیب کا انہدام ہے۔
یاد ہے اقبال نے کیا کہا تھا؟
’تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی‘۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیفن ہاکنگ جیفری ایپسٹین جیفری ایپسٹین فائلز جیفری ایپسٹین فائلز مغربی تہذیب کا ڈونلڈ ٹرمپ حقوق نسواں سال کے لیے ادارے کے ہی نہیں کے ساتھ ہوتی ہے ہوتا ہے درجے کا یہ بھی اور اس
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین