خیبر پختونخوا میں اسمگلنگ کیخلاف بڑی کارروائی؛ 7 لاکھ گرام سے زائد منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پشاور:
محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے منشیات کے خلاف کارروائیوں میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ضلع خیبر میں کی گئی اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 718,060 گرام منشیات برآمد کرکے ضبط کر لی گئیں۔ یہ کارروائی ضلع خیبر کے دور افتادہ علاقوں میں دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے عمل میں لائی گئی۔
کارروائی کے دوران 615,500 گرام بھنگ اور 18,100 گرام آئس برآمد کی گئی، جبکہ 70,000 گرام چرس اور 1,160 گرام ہیروئن بھی ضبط کی گئی۔ اس کے علاوہ 13,300 گرام افیون اور 18 ایکسٹیسی گولیاں بھی برآمد کر لی گئیں۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق منشیات کو ضبط کرکے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
یہ کارروائی ایکسائز انٹیلیجنس بیورو اور ایکسائز پولیس اسٹیشن خیبر نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ کارروائی پراونشل انچارج ایکسائز انٹیلیجنس بیورو سعود خان گنڈاپور اور ای ٹی او نارکوٹکس کنٹرول ماجد خان کی نگرانی میں کی گئی جبکہ ایس ایچ او تھانہ ایکسائز خیبر ماجد حسین، انچارج ای آئی بی اسپیشل سکواڈ وحید اکبر خان اور دیگر نفری نے کارروائی میں حصہ لیا۔
صوبائی وزیر سید فخر جہان نے کہا کہ منشیات ڈیلرز اور اسمگلرز کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا جائے گا ۔ صوبے کو منشیات کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی گئی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔