تھانہ ماڑی پور،با اثر ہاکس بے چوکی انچارج افسران بالا سے طاقتور نکلا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
صابر اپنے خاص کارندوں کانسٹیبل اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کامران سے لاکھوں کی ہفتہ وصولی کروانے لگا
چوکی انچارج صابر رقم کے عوض جرائم کی سرپرستی کرنے کے باوجود تبدیل نہ ہو سکا، علاقہ باوثوق ذرائع
(رپورٹ؍ ایم جے کے)تھانہ ماڑی پور’ با اثر ہاکس بے چوکی انچارج افسران بالا سے طاقتور نکلا، چوکی انچارج صابر رقم کے عوض جرائم کی سرپرستی کرنے کے باوجود بھی نہ تبدیل ہو سکا، صابر اپنے خاص کارندوں کانسٹیبل اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کامران سے لاکھوں روپے کی ہفتہ وصولی کروارہا ہے، خبریں چلنے سے کیا ہوگا میری ایس ایس پی سے بات ہوگئی ہے میں پیسہ اوپر تک پہنچاتا ہوں، چوکی انچارج، گٹکا ماوا کی فروخت، فحاشی نائٹ ہٹ پارٹی اور ایرانی پیٹرول ڈیزل کی سپلائی کا کام جاری۔ علاقہ باوثوق ذرائع کے مطابق تھانہ ماڑی پور ہاکس بے چوکی پر تعینات اے ایس آئی صابر افسران بالا سے زیادہ طاقتور نکلا چوکی انچارج صابر لاکھوں روپے ہفتہ رقم کے عوض جرائم کی سرپرستی کرنے کے باوجود بھی نہ تبدیل ہو سکا جو کہ محکمہ پولیس پر سوالیہ نشان ہے، ہاکس بے چوکی انچارج کی تبدیلی نہ ہونا اس بات کی تائید کرتا ہے جو اے ایس آئی صابر نے کہا کہ مجھے کوئی نہیں ہٹا سکتا میں پیسہ اوپر تک پہنچاتا ہوں ہاکس بے چوکی کی حدود میں گٹکا و ماوا کی سپلائی اور فروخت، ہٹ پر رکھے جنریٹر میں ایرانی ڈیزل و پٹرول کی سپلائی اور فروخت جیسے غیرقانونی کام جاری ہیں، اے ایس آئی صابر اپنے خاص کارندوں پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد کے ذریعے تمام غیرقانونی کاموں کی مد میں لاکھوں روپے ہفتہ بھتہ وصولی کروا رہا ہے، اس کے علاوہ ہاکس بے پر موجود ہٹ پر فحاشی نائٹ پارٹی، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چلنے والے پروگرامز کی ہاکس بے پر شوٹنگ کی مد میں پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد رقم وصول کر کے تھانہ ماڑی پور بیٹر کانسٹیبل کامران کو دیتا ہے جو ایک حصہ ماڑی پور چوکی انچارج اے ایس آئی صابر کو لاکھوں، ہزاروں روپے پہنچاتا ہے اور دوسرا حصہ تھانہ ماڑی پور میں پہنچاتا ہے بتاتے چلیں کہ کچھ دن قبل ایس ایچ او ماڑی پور مٹھل شر کو معطل کردیا گیا اور اس کی جگہ ایس ایچ او سرفراز کو چارج دے دیا گیا، علاقہ ذرائع نے مزید بتایا کہ ہاکس میں چوکی انچارج اے ایس آئی صابر کا کہنا ہے کہ ان خبروں سے میرا کچھ نہیں ہو سکتا میری ایس ایس پی سے بات ہو گئی ہے اور میں پیسہ اوپر تک پہنچاتا ہوں، جبکہ اے ایس آئی صابر کے خاص کارندے پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم اور شعیب کی جانب سے سیر و تفرح کے لیے آئی فیملیز سے نکاح نامے کے نام پر 1000 اور 500 روپے لیکر چھوڑنے کا غیرقانونی کام بھی جاری ہے نہ دینے پر ان فیملیوں کو پریشان بھی کرنے کا انکاشاف ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ اے ایس آئی صابر پچھلے پانچ سال سے ہاکس بے چوکی انچارج رہنے کی وجہ سے مالا مال ہوگیا ہے اس دوران اس نے 2025 کی آلٹو کار استعمال میں رکھی ہے اس سے قبل اس کے پاس سفید کلر کی کرولا کار تھی اور کء گھر بھی خرید لیے ہیں اسی ہاکس بے کے ایریے میں جسے اس نے کرا? پر دے رکھے ہیں، اے ایس آئی صابر تھانہ ماڑی پور ہاکس بے چوکی پر ہفتے میں صرف تین دن آتا ہے جمعہ، ہفتہ اور اتوار وہ بھی صرف ہفتہ لاکھوں روپے بھتے کے پیسے لینے، باقی تمام کام اس کے خاص کارندے پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد سنبھالتے ہیں، علاقہ مکین ماڑی پور نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے مطالبہ کیا ہے کہ ہاکس بے چوکی انچارج صابر اور تھانہ ماڑی پور کانسٹیبل اکرم، کانسٹیبل شعیب، تھانہ ماڑی پور بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد کے خلاف سخت سے سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بیٹر کانسٹیبل کامران چوکی انچارج صابر اے ایس ا ئی صابر لاکھوں روپے تھانہ بیٹر
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں