Juraat:
2026-07-24@11:15:58 GMT

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں
پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں رمضان المبارک سے پہلے ہی مہنگائی نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، گزشتہ ماہ(جنوری) ملک میں مہنگائی کی شرح 0۔39 فیصد اضافے کے ساتھ سالانہ بنیادوں پر 5۔80 فیصد ریکارڈ کی گئی، وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے بارے ماہانہ رپورٹ جاری کردی۔وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2026 میں ماہانہ بنیاد پر زندہ برائلرمرغی سولہ فیصد، گندم دس فیصد،ٹماٹر سات فیصد اور آٹا 4۔8 فیصد تک مہنگا ہوا۔ پھلوں کی قیمتیں 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصد اضافی ہوامچھلی، بیکری آئٹمز، دال مونگ، خشک میوے، خشک دودھ اور گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دوسری طرف جنوری میں پیاز اور آلو 28 فیصد جبکہ مجموعی طور پر سبزیاں 16۔59 فیصد تک سستی ہوئی ہیں، چینی کی قیمت میں 9۔6 اور انڈوں کی قیمت میں چھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔گزشتہ ماہ دال چنا، مسور، گڑ، ماش، بیسن اور سگریٹس کے دام بھی کم ہوئیجولائی دوہزار پچیس سے جنوری دوہزار چھبیس کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5۔24 فیصد رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ