پاکستانی قیادت کا کشمیری حقِ ارادیت پر دوٹوک مؤقف، بھارتی مظالم کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستانی قیادت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور دیگر قومی رہنماؤں نے اپنے الگ الگ پیغامات میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، جن میں غیرقانونی گرفتاریاں، اجتماعی سزائیں اور شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کی رپورٹس اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے منظم ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر مملکت نے اس موقع پر یاد دلایا کہ یومِ یکجہتی کشمیر کا آغاز بینظیر بھٹو نے 1989 میں کیا تھا تاکہ دنیا کو کشمیریوں کی آواز سنائی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ اور حل طلب تنازع ہے، جسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات غیرقانونی تھے اور ان کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی اور سیاسی تبدیلیاں مسلط کرنا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق، یعنی آزاد اور غیرجانبدار رائے شماری، ہر صورت ملنا چاہیے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ 5 فروری پاکستان اور کشمیر کے درمیان گہرے اور لازوال رشتے کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام نے بے پناہ قربانیوں کے باوجود اپنے عزم میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لے اور کشمیری عوام کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کشمیری عوام نے کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :