امریکی صدر کا چینی ہم منصب سے رابطہ، ٹرمپ نے بات چیت کو شاندار قرار دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کو شاندار قرار دیا۔ رابطے کے بعد جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ صدر شی کے ساتھ تجارت، فوجی امور، تائیوان، روس۔یوکرین تنازع اور ایران کی موجودہ صورتحال سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلۂ خیال ہوا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق بات چیت کے دوران چین کی جانب سے امریکا سے تیل، گیس، اضافی زرعی مصنوعات کی خریداری اور طیاروں کے انجنوں کی ترسیل جیسے امور بھی زیرِ بحث آئے۔
چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے گفتگو کے دوران امریکا۔چین تعلقات میں تائیوان کے مسئلے کو انتہائی اہم قرار دیا اور تائیوان کے ساتھ اسلحہ جاتی معاہدوں پر امریکا کو غیر معمولی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔
دوسری جانب چینی صدر اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران، یوکرین اور دیگر اہم عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا، جبکہ صدر پیوٹن نے دورۂ چین کی دعوت بھی قبول کر لی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔