یومِ یکجہتی کشمیر کی مرکزی تقریب، یکجہتی واک اور ریلی کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد یومِ یکجہتی کشمیر کی مرکزی تقریب ڈی چوک میں ہوئی جس کی قیادت وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نے کی، کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپورجوش وجذبے سے منایا جا رہا ہے٫ ایک منٹ کی خاموشی، ڈی چوک میں وفاقی وزرا کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ اسلام آباد یومِ یکجہتی کشمیر کی مرکزی تقریب ڈی چوک میں ہوئی جس کی قیادت وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نے کی، کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ وزارتِ امورِ کشمیر کے زیرِاہتمام مرکزی یکجہتی واک چائنا چوک سے ڈی چوک تک نکالی گئی۔ واک میں وفاقی وزارتوں کے افسران، سول سوسائٹی، طلبہ، خواتین، بچوں، حریت قیادت کے نمائندوں اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم تھام رکھے تھے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔ ڈی چوک پہنچنے پر صبح دس بجے سائرن بجایا گیا اور کشمیری شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
تقریب کے دوران مظلوم کشمیری عوام کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی ایک دن ضرور کامیاب ہو گی۔ حریت قیادت کشمیر کاز کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہے اور پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بنتا رہے گا۔آج پورا پاکستان سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔ بھارت کشمیری عوام پر مظالم چھپا رہا ہے، مگر حقائق دنیا کے سامنے آ کر رہیں گے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس موقع پر کہا پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ادارے بند کر کے بچوں کا مستقبل تاریک کر رہا ہے۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے کہا پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کی آزادی کے لیے آواز بلند کرے گا۔ کشمیر میں ظلم اب بند ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایک منٹ کی خاموشی یکجہتی کشمیر کشمیری عوام وفاقی وزیر کشمیر کی کی گئی ڈی چوک
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔