Juraat:
2026-06-03@05:45:20 GMT

5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

محمد آصف

ہر سال 5فروری کو یومِ یکجہتی ٔ کشمیر منایا جاتا ہے ۔ یہ دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عہد، ایک وعدہ اور ایک
زندہ احساس ہے جو کشمیری عوام کے ساتھ ہمارے قلبی، اخلاقی اور انسانی رشتے کی یاد دہانی کراتا ہے ۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ
صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ انسانی وقار، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کا نام ہے ۔ عہدِ وفا اسی پختہ یقین کا اظہار ہے کہ ہم کشمیری
عوام کے دکھ، امید اور مستقبل کے ساتھ کھڑے ہیں۔
برصغیر کی تقسیم کے وقت ریاست جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ تھا، جس کے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عوام
کی رائے سے ہونا تھا۔ تاہم سیاسی پیچیدگیوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث یہ حق دہائیوں سے مؤخر ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ
مسئلہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک حساس معاملہ بن چکا ہے ۔ یومِ یکجہتی ٔ کشمیر ہمیں اس تاریخی پس منظر کی یاد دلاتا ہے
اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انصاف میں تاخیر کس طرح انسانی المیوں کو جنم دیتی ہے ۔کشمیر کی سرزمین قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ یہاں
کی مائیں اپنے بیٹوں کی جدائی کے غم کے ساتھ بھی امید کا چراغ روشن رکھتی ہیں، بہنیں بھائیوں کے انتظار میں دعا کے دامن کو تھامے رکھتی ہیں، اور بچے اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ظلم اور جبر کے سائے میں بھی انسانی حوصلہ کمزور نہیں پڑتا۔ یومِ یکجہتی ٔ کشمیر اسی حوصلے کو سلام پیش کرنے کا دن ہے ۔
کشمیر کے مسئلے کا سب سے بنیادی اور حساس پہلو انسانی حقوق ہے ۔ عالمی رپورٹس میں شہری آزادیوں کی پابندی، اظہارِ رائے پر قدغن،
اور روزمرہ زندگی کو درپیش مشکلات کا ذکر ملتا ہے ۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی حقوق کسی قوم، مذہب یا سرحد تک محدود نہیں ہوتے ۔
ہر انسان کا حق ہے کہ وہ عزت، امن اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارے ۔ عہدِ وفا کا تقاضا ہے کہ ہم دنیا کے سامنے ان بنیادی اصولوں کی یاد دہانی کرواتے رہیں۔پاکستان نے ابتدا ہی سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے ۔ سفارتی سطح پر اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر کیا جاتا رہا ہے ۔
یومِ یکجہتی ٔ کشمیر اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان سیاسی، اخلاقی اور سفارتی محاذ پر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ یہ دن ہمیں بطور قوم متحد ہونے اور دنیا کو یہ پیغام دینے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے ۔آج کی دنیا ڈیجیٹل ہے ، جہاں ایک پیغام لمحوں میں سرحدوں کو عبور کر لیتا ہے ۔ نوجوان نسل کے پاس سوشل میڈیا، بلاگز، ویڈیوز اور آن لائن پلیٹ فارمز کی صورت میں طاقتور ذرائع موجود ہیں۔ یومِ یکجہتی ٔ کشمیر نوجوانوں کے لیے یہ پیغام لاتا ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ سچ کو پھیلائیں، مصدقہ معلومات کو ترجیح دیں اور غلط بیانی کا مؤثر جواب دیں۔ قلم، کیمرہ اور کی بورڈ آج کے دور کے امن کے ہتھیار ہیں۔
تعلیم صرف نصابی علم تک محدود نہیں بلکہ شعور کی تربیت بھی ہے ۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں کشمیر کے موضوع پر سیمینارز، مباحثے اور تحقیقی سرگرمیاں طلبہ میں عالمی مسائل کے بارے میں حساسیت پیدا کرتی ہیں۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر اس تعلیمی کردار کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے ، جہاں طلبہ تاریخ، قانون اور انسانی حقوق کے تناظر میں مسئلے کو سمجھ سکتے ہیں اور اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں۔ میڈیا عوامی سوچ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مستند خبریں، انسانی کہانیاں اور زمینی حقائق دنیا کے سامنے لانے سے مسئلے کی حقیقی تصویر ابھرتی ہے ۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ غیرجانبداری اور سچائی کے ساتھ حقائق پیش کرے ۔ سچ پر مبنی صحافت ہی دیرپا اثر چھوڑتی ہے ۔
کشمیر کا مسئلہ صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ عالمی امن سے جڑا ہوا سوال ہے ۔ خطے میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب انصاف ہو اور عوام کی رائے کا احترام کیا جائے ۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلانے میں مدد فراہم کرے ۔ خاموشی اکثر ناانصافی کو طول دیتی ہے ، جبکہ فعال کردار مسائل کے حل کی راہ ہموار کرتا ہے ۔کشمیر کا مسئلہ کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کا نام نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کی تلاش ہے ۔ مکالمہ، اعتماد سازی اور انسانی بنیادوں پر روابط ایسے راستے ہیں جو کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔ یومِ یکجہتی ٔ کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ دلوں کی
قربت اور ایک دوسرے کے وجود کے احترام سے قائم ہوتا ہے ۔”عہدِ وفا”کا مطلب صرف ایک دن منانا نہیں بلکہ سال بھر اپنے رویوں اور عمل سے یکجہتی کا اظہار کرنا ہے ۔ چاہے وہ سماجی شعور بیدار کرنا ہو، مستند معلومات شیئر کرنا ہو یا عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری کی حمایت ہر فرد اپنا حصہ ڈال سکتا ہے ۔ استاد اپنے طلبہ کو شعور دے سکتا ہے ، صحافی سچ کو سامنے لا سکتا ہے ، اور عام شہری اپنی آواز بلند کر سکتا ہے ۔
تقریبات، واکس، مشاعرے اور ثقافتی پروگرام کشمیری عوام کے ساتھ جذباتی اور سماجی رشتہ مضبوط کرتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف پیغام کو وسیع حلقے تک پہنچاتی ہیں بلکہ ایک قوم کی اجتماعی روح کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر اس سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا دن ہے ۔تمام تر مشکلات کے باوجود امید کا چراغ روشن ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کی خواہش اور عالمی ضمیر ایک سمت میں چل پڑیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے ۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کی روشنی موجود ہے ۔
5 فروری یومِ یکجہتیٔ کشمیر”عہدِ وفا”کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی، انصاف اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد ایک مسلسل سفر ہے ۔ یہ دن ہمارے اس وعدے کی تجدید ہے کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے ، ان کی آواز بنیں گے اور ہر ممکن فورم پر ان کے حقِ
خودارادیت کی حمایت کریں گے ۔آئیں ہم سب مل کر یہ پیغام دیں کہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کی آزمائش ہے ، اور اس آزمائش میں ہماری پہچان حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ۔ کشمیر پاکستان کے لیے قومی غیرت اور وقار کی علامت ہے ، کیونکہ یہ ہماری تاریخ، قربانیوں اور اصولی مؤقف کی یاد دہانی کراتا ہے ۔ یہ مسئلہ ہمیں اتحاد، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے اور دنیا کو بتاتا ہے کہ ہم مظلوموں کے ساتھ ہمیشہ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے اور اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کشمیری عوام کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ یاد دلاتا ہے اور انسانی نہیں بلکہ ہیں بلکہ ہے کہ وہ ہے کہ ہم کرتا ہے سکتا ہے وفا کا کے لیے کی یاد

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز