Jasarat News:
2026-06-02@23:45:21 GMT

تعصب کا کچرا اور کراچی کا مقدمہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی محض ایک شہر نہیں؛ یہ ایک متحرک تہذیب، ایک زندہ تاریخ اور مسلسل جدوجہد کا استعارہ ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا، بندرگاہوں سے لے کار صنعتوں تک، یونیورسٹیوں سے لے کر مزدور بستیوں تک اپنا سب کچھ دے ڈالا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب بھی کراچی اپنے حقوق کی بات کرتا ہے، جب بھی اس کے مسائل پر سوال اٹھتا ہے، تو منطق کے بجائے تعصب کا کچرا پھینکا جاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت ِ عملی ہے۔ چالیس سالہ نااہلی، کرپشن اور بدانتظامی پر انگلی اٹھتے ہی فوراً لسانی تعصب، مہاجر دشمنی اور نفرت کا بیانیہ سامنے آ جاتا ہے۔ جیسے ہی کراچی کے زخم گنوائے جاتے ہیں، کچھ لوگوں کے اندر کا بغض اس طرح پھٹتا ہے جیسے گٹر کا ڈھکن اچانک کھل جائے۔ حالیہ دنوں میں معروف ٹی وی میزبان تابش ہاشمی نے کراچی کے انتظامی بحران اور پرائیویٹائزیشن جیسے ممکنہ حل پر بات کی۔ بات سے اختلاف ہو سکتا تھا، تنقید کی جا سکتی تھی، متبادل تجاویز دی جا سکتی تھیں۔ لیکن یہاں تو مکالمے کو دلیل کے دائرے میں رکھنے کے بجائے شخصی حملوں، لسانی طعنوں اور ’’مہمان‘‘ جیسے گھٹیا الفاظ کا سہارا لیا گیا۔ یہ رویہ دراصل اس خوف کا اظہار ہے کہ کہیں کراچی حقیقی سوال پوچھنا نہ شروع کر دے، کہیں اس شہر پر مسلط لوٹ مار کے نظام کو چیلنج نہ کر دیا جائے۔

سب سے پہلے اس لغو بحث کو دفن کرنا ضروری ہے کہ کراچی میں کون میزبان ہے اور کون مہمان۔ کراچی میں پیدا ہونے والے، پلنے بڑھنے والے، تعلیم حاصل کرنے والے، روزگار کرنے والے اور ٹیکس ادا کرنے والے شہری کو ’’مہمان‘‘ کہنا محض گستاخی نہیں، بلکہ فکری دیوالیہ پن ہے۔ یہ شہر کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، نہ ہی کسی کے پاس یہاں ویزے جاری کرنے کا اختیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ’’مہمان‘‘ کی اصطلاح لاگو ہوتی ہے تو وہ ان سیاسی گروہوں پر ہونی چاہیے جو عشروں سے یہاں کے وسائل پر قابض ہیں، جو زمینیں بیچتے

ہیں، پروجیکٹس لوٹتے ہیں اور اختیارات سمیٹ کر اسلام آباد یا بیرونِ ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔ کراچی کے اصل وارث وہ لوگ ہیں جو یہاں پسینہ بہاتے ہیں، جو یہاں کے گٹر، کچرے، ٹریفک اور ناانصافیوں کو روز برداشت کرتے ہیں۔’’ہندوستان چلے جاو‘‘: دلیل کے جنازے پر نفرت کی نماز،جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو’’ہندوستان چلے جائو‘‘ کا فرسودہ راگ الاپا جاتا ہے۔ یہ جملہ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ بولنے والے کے پاس نہ تاریخ کا شعور ہے، نہ ریاستی تصور کی سمجھ، نہ آئین کا احترام۔ یہ ملک انہی لوگوں کی قربانیوں اور جدوجہد سے معرضِ وجود میں آیا جنہیں آج طعنے دیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی بنیاد کسی خاص لسان یا نسل پر نہیں، بلکہ ایک نظریے پر رکھی گئی تھی اور وہ نظریہ آج بھی زندہ ہے، چاہے نفرت کے تاجر اسے دفن کرنے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ کسی پاکستانی شہری کو اس کے آباؤ اجداد کی بنیاد پر نشانہ بنانا دراصل ریاست پاکستان کے وجود پر ہی سوالیہ نشان ہے۔ افسوس کہ یہ بات وہ لوگ نہیں سمجھتے جن کی سیاست ہی نفرت اور تقسیم کی کھاد پر پلتی ہے۔

ہر معقول سوال کے جواب میں’’سندھ

کارڈ‘‘ کھیلنا اب ایک گھسا پٹا ہتھکنڈا بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سندھ کس کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کراچی کس حال میں ہے؟ کیا ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، اُبلتے ہوئے گٹر، پانی کا بحران، ناقص ٹرانسپورٹ اور کچرے کے پہاڑ ’’سندھ دشمنی‘‘ کا نتیجہ ہیں؟ یا پھر یہ سب چالیس سالہ بدعنوان، نااہل اور غیر ذمے دارانہ حکمرانی کا منطقی نتیجہ ہیں؟ کراچی کو آج پی آئی اے کی طرح پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ادارہ جسے سیاسی مداخلت، نااہلی اور کرپشن نے تباہ کر کے رکھ دیا۔ اگر پی آئی اے پرائیویٹائزیشن کے دہانے پر کھڑا ہے تو کراچی کے انتظامی ڈھانچے اور خدمات پر سوال اٹھانا کون سا قومی جرم ہے؟ اگر کراچی کا بیٹا، خواہ وہ صحافی ہو یا دانشور، کوئی حل تجویز کرے تو اس پر کیچڑ اچھالنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل تشویش شہر کی بہتری نہیں، بلکہ اپنے قبضے اور اختیارات کا کھو جانا ہے۔ شور شرابے، لسانی تعصب اور نفرت کی سیاست کے اس ماحول میں اگر کوئی سیاسی قوت مستقل طور پر ایک متبادل نظریہ پیش کرتی ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ کراچی کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس شہر کو دیانت دار، اصول پسند اور عوام دوست قیادت ملی، وہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ہی ملی۔ نعمت اللہ خان مرحوم کا دور اس کی روشن مثال ہے، جب محدود اختیارات کے باوجود شہر کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے۔ آج حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی نے ثابت کیا ہے کہ جب سیاست خدمت ِ خلق بن جائے تو عوام خود بخود اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کے-الیکٹرک کے خلاف منظم عوامی جدوجہد، پانی کے بحران پر

مسلسل آواز اٹھانا، ناجائز ٹیکسوں کے خلاف احتجاج، اور بلدیاتی سطح پر دیانت داری سے کام۔ یہ سب جماعت اسلامی کے اس مؤقف کا عملی ثبوت ہیں کہ کراچی کسی ایک گروہ کا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا شہر ہے جو یہاں رہتا ہے۔ جماعت اسلامی نے کبھی نفرت یا تقسیم کی سیاست نہیں کی، بلکہ ہمیشہ شہری حقوق، شفافیت اور ذمے دارانہ حکمرانی کی بات کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نفرت کے سوداگر اس جماعت سے سب سے زیادہ خائف ہیں کیونکہ یہ ان کے پورے زہریلے بیانیے کی بنیاد ہی ہلا دیتی ہے۔ اب یہ ہم سب کا مشترکہ معاملہ ہے۔

آج کراچی کا مقدمہ صرف کسی ایک جماعت یا لسانی گروہ تک محدود نہیں رہا۔ یہ مقدمہ اب ہر اس فرد کا ہے جو کراچی میں سانس لیتا ہے، روزگار کرتا ہے، اور یہاں کی مشکلات برداشت کرتا ہے۔ نفرت پھیلانے والوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ تعصب کا کچرا جتنا زیادہ اچھالا جائے گا، عوامی بیداری اتنی ہی تیز ہوگی۔ کراچی کے عوام اب سوال پوچھ رہے ہیں: ہمارا پانی کہاں ہے؟ ہماری سڑکیں کیوں تباہ ہیں؟ ہمارا کچرا کیوں نہیں اٹھتا؟ ہمارے اختیارات کس نے ہڑپ کیے؟ اور سب سے بڑھ کر: ہمیں نفرت کے بدلے خدمت کیوں نہیں ملتی؟ تابش ہاشمی کو ہندوستان بھیجنے کے مشورے دینے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ذہنوں میں جمع اس کچرے کو صاف کریں جس میں تعصب، خوف اور تنگ نظری بھری ہوئی ہے۔ کراچی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، اور نہ ہی یہ شہر خاموش رہنے والا ہے۔ یاد رکھیے: جب سوال عوامی ہوں، جب قیادت دیانت دار ہو، اور جب سیاست خدمت بن جائے تو پھر نہ سندھ کارڈ چلے گا، نہ لسانی نفرت۔ بچے گا تو صرف کراچی۔ اور کراچی کا مقدمہ، ہر سازش کے باوجود، اب ہر حال میں جیتے گا۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی کا کراچی کے

پڑھیں:

کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔ 

مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق  فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے