مودی کی سرپرستی میں بھارت دنیا بھر میں سائبر فراڈ کا گڑھ بن گیا: امریکی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
واشنگٹن (این این آئی) امریکی حکام کی تحقیقات میں بھارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بھارتی کال سینٹرز کے ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔امریکی جریدے کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں کروڑوں ڈالر کے مالی فراڈ کی تحقیقات کے دوران بھارت سے چلنے والے منظم فراڈ نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے۔رپورٹ کے مطابق تین بھارتی کال سینٹرز نے 650 سے زائد امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا، جنہیں مجموعی طور پر 48 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچا۔ ان کال سینٹرز سے وابستہ افراد خود کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے۔ جعل ساز ای میلز، فون کالز اور جعلی پاپ اپ پیغامات کے ذریعے امریکی شہریوں کو خوفزدہ کر کے رقم وصول کرتے رہے۔ امریکی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر بھارتی ایجنسیوں نے کارروائی کرتے ہوئے فراڈ نیٹ ورک کے چھ سرغنہ گرفتار کر لیے جبکہ بڑی مقدار میں الیکٹرانک سازوسامان بھی ضبط کیا گیا۔ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ جمی پال نے بھی بھارت میں قائم تین کال سینٹرز سے منسلک فراڈ نیٹ ورک کے خاتمے کی تصدیق کی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ریاستی اداروں کی جعلی شناخت کا استعمال ریاستی نگرانی کی کمزوری اور انتظامی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت میں حالیہ منظم سائبر فراڈ کے واقعات کمزور ضابطہ کاری اور ادارہ جاتی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کال سینٹرز
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔