لاہور، پتنگ لوٹتے ہوئے کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جاں بحق، ڈور پھرنے سے 5 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
لاہور میں بسنت کے موقع پر مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوگئے۔
لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں سکھ نہر کے قریب پتنگ لوٹتے ہوئے کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ اتارنے کے لیے بجلی کے کھمبے پر چڑھا تھا کہ حادثہ پیش آیا۔
لاہور میں آسمان پر ستاروں کی جگہ پتنگیں سج گئی ہیں، روشن چھتوں پر منچلوں اور پتنگ بازوں کی بہار ہے۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ڈیفنس فیز 5 میں پتنگ کی ڈور گردن پر پھرنے سے نوجوان رافع زخمی ہوا، گلشن راوی میں بھی پتنگ کی ڈور پھرنے سے 8 سالہ ارسا اور 45 سالہ شبیر زخمی ہوگئے۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق لوئر مال میں پتنگ لوٹتے ہوئے 12 سالہ عبدالواحد زخمی ہوا، گلشن راوی میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتارتے ہوئے گِر کر زخمی ہوگیا۔
واضح رہے کہ لاہور میں بسنت فیسٹیول کا آغاز ہوگیا ہے، پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے رات 12 بجے پتنگ اڑا کر بسنت فیسٹیول کا باقاعدہ آغاز کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاہور میں
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔