پاکستان کو 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی: صدرعالمی بینک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پاکستان کو 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی: صدرعالمی بینک WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز
لاہور: (آئی پی ایس) صدر عالمی بینک اجے بنگا نے کہا ہے کہ پاکستان کو اگلے 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، پاکستان میں ہر سال 25 سے 30 لاکھ نئی ملازمتیں ضروری ہیں۔
عالمی بینک کےصدر اجے بنگا نے بین االاقوامی خبررساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ نوجوان آبادی کو روزگار نہ ملا تو بے روزگاری، بدامنی،ہجرت بڑھے گی،عالمی بینک پاکستان کے ساتھ سالانہ 4 ارب ڈالر کی شراکت داری کرے گا۔
صدرعالمی بینک نےکہا کہ نوکریوں کا 90 فیصد حصہ نجی شعبہ پیدا کرتا ہے، زراعت سے ایک تہائی روزگار پیدا ہو سکتا ہے،بجلی کاشعبہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، اصلاحات کی فوری ضرورت ہے، بجلی نقصانات معیشت اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ سولرتوانائی فائدہ مند مگر نظام کی بہتری ضروری ہے، صحت، انفرا اسٹرکچر، سیاحت، زراعت میں زیادہ روزگارکےمواقع ہیں،ماحولیاتی تحفظ کو ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بنانا ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ کے نمایاں نتائج، بدنام دہشت گرد گروہ نے ہتھیار ڈال دیے بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ کے نمایاں نتائج، بدنام دہشت گرد گروہ نے ہتھیار ڈال دیے پختونخوا میں فتنہ الخوارج کیخلاف بھرپور کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 24 خوارج ہلاک جدہ: پاکستان قونصلیٹ میں نئے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ، پاکستانی کمیونٹی کی بھرپور شرکت بلوچستان میں پائیدار زرعی ترقی اور کسانوں کی معاشی خوشحالی کی سمت اہم پیشرفت امریکا ایران مذاکرات آج ہوں گے، فریقین کے نمائندے مسقط پہنچ گئے لاہور میں 25 سال بعد بسنت، ہر طرف بھنگڑے، بوکاٹا کی صدائیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔