سابق بھارتی آرمی چیف کی یادداشتوں نے فوجی قیادت کی بے بسی اور مودی کی ’نیتاگری‘ آشکار کردی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ایم ایم ناروانے نے اپنی یادداشتوں کی کتاب (Four Stars of Destiny) میں 2020 کے لداخ اسٹیینڈ آف، اگنی پتھ اسکیم کی اچانک نفاذ اور سرحدی انتظامات میں سنگین خامیاں بے نقاب کی ہیں، لیکن بھارتی وزارت دفاع نے اسے 2024-2023 سے سیکیورٹی کلیئرنسز کی بنیاد پر جاری نہیں ہونے دیا۔
مزید پڑھیں:مودی نے امریکی دباؤ کے آگے جھک کر کسانوں کی محنت بیچ دی، راہول گاندھی
یادداشت کے مطابق لداخ کے دوران فوجی تیاری اور سیاسی فیصلہ سازی میں واضح تضاد تھا، جس سے ملکی قیادت میں عدم ہم آہنگی سامنے آئی۔ جنرل ناروانے نے متعدد بار وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوال، چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو فون کرکے عملی احکامات طلب کیے، لیکن انہیں ہدایت ملی کہ اوپر سے اجازت کے بغیر فائر نہ کریں۔
چینی ٹینک بھارتی پوزیشنز کے قریب پہنچ گئے تو آرمی چیف نے فوری کارروائی کی اجازت طلب کی، لیکن سیاسی ہچکچاہٹ نے فوج کو میدان جنگ میں دباؤ اور بروکریٹک تعطل کے درمیان چھوڑ دیا۔ بعد میں دی گئی غیر واضح ہدایت ’جو مناسب سمجھو، وہ کرو‘ نے اسٹرٹیجک کنفیوژن اور سول ملٹری عدم ہم آہنگی کو مزید واضح کیا۔
مزید پڑھیں: بھارت مودی کی ہندوتوا پالیسی پر گامزن، جلد شیرازہ بکھر جائے گا: قائم مقام صدر آزاد کشمیر
2 فروری 2026 کو جب راہول گاندھی نے لوک سبھا میں ان حقائق کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، تو وزیر اعظم مودی کے وزرا راجناتھ سنگھ اور امیت شاہ نے ہنگامہ کرکے اجلاس معطل کروا دیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت حقائق کو چھپانے اور سینیئرز فوجی حکام کو چپ کرانے میں پیش پیش ہے تاکہ مودی کی ناقابلِ خطا قوم پرستی کی تصویر قائم رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Four Stars of Destiny General M M Naravane بھارتی فوج لداخ مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔