بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سخت تحفظات ہیں: علامہ راجا ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ میں قائدحزب اختلاف علامہ راجا ناصرعباس کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سابق وزیراعظم ہیں، انکے حقوق سلب ہو رہے ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے سخت تحفظات ہیں۔
نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں قائدحزب اختلاف علامہ راجا ناصرعباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا پولیس کوحق ہے کہ پرامن مظاہرین کو ڈنڈےمارے؟ حکومتیں عوام کو ان کاحق دینے کے لیے ہوتی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی سابق وزیراعظم ہیں ان کے حقوق سلب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے کہا گیا وہ بیمارہی نہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ پھر پانچ دن بعد اقرار کیا گیا کہ وہ بیمار ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ہمیں سخت تحفظات ہیں۔
پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات، یادداشت پیش کی
انہوں نیہ دوران خطاب مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ڈاکٹرز کے چیک کرنے سے کیا ہو جائے گا؟ ایک بزرگ سیاستدان بیمار ہوئے تو کیا ان کو جیل سے علاج کیلئے نہیں بھیجا گیا تھا؟ ہم نے 8 فروری کواحتجاج کا کہا ہے تو پھر لوگوں کوکیوں گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔