سٹی42: لاہور میں 25 سال بعد بسنت کا تہوار تین روزہ جشن کی شکل میں جاری ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں پتنگوں کی خریداری کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز شہر میں 70 سے 75 کروڑ روپے کے قریب گڈا و ڈور کی خریداری ہوئی، جبکہ آج بھی کروڑوں روپے کے کاروبار کی توقع کی جا رہی ہے۔

بسنت کی خوشیوں نے لاہور کے روایتی ورثے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ شہر کی دیواریں، عمارتیں اور چھتیں جشن کی روشنی سے جگمگا رہی ہیں، اور آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں 25 سال بعد واپس لوٹ آئیں۔ لبرٹی چوک، کینال اور اندرونِ شہر کے علاقے بسنت کے رنگوں میں رنگ گئے، جہاں شہریوں نے دن چڑھتے ہی پتنگیں اور ڈور سنبھال لی ہیں۔

بھارت: عام آدمی پارٹی کے رہنما لکی اوبرائے جالندھر میں فائرنگ سے ہلاک

لاہور کے مختلف علاقوں بشمول گڑھی شاہو، باغبانپورہ، شام نگر اور موچی گیٹ میں پتنگ فروش دکانوں پر بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کی بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ موچی گیٹ بازار میں ڈور کا پنا، تاوا، ڈیڑھ تاوا گڈا نایاب ہو گیا ہے اور ڈور کے 2 پیس پنا بلیک میں 25 ہزار روپے تک فروخت ہونے لگے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق پونا تاوا 150 سے 200 روپے، ایک تاوا 400 سے 500 روپے، جبکہ ڈیڑھ تاوا گڈا 600 سے 800 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ بعض علاقوں میں ڈیڑھ تاوا گڈا 500 سے 700 روپے میں بھی دستیاب ہے۔

دنیا بھر میں فیس بک کی سروسز متاثر، صارفین پریشان

پتنگوں کے ساتھ ڈور کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اس کے باعث ڈور کی قیمت 9 سے 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ پتنگوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے اور وقت کم ہونے کے باوجود کوشش کی جا رہی ہے کہ ہر شہری بسنت منانے کا موقع پائے۔

بسنت کے موقع پر انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ صرف ساڑھے چار کھٹی پتنگ اور ڈیڑھ تاوا گڈا اڑانے کی اجازت ہوگی۔ صرف کاٹن دھاگے کی ڈور استعمال اور فروخت کی اجازت ہے جبکہ دھاتی تار، نائلون، کیمیکل یا شیشہ لگی مانجے پر مکمل پابندی ہوگی۔ خلاف ورزی پر 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

انڈر 19 ورلڈکپ کے فائنل میں آج انگلینڈ اور بھارت آمنے سامنے

دوسری جانب  رہنما عظمی بخاری نے بسنت کی خوشیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور نے ثابت کر دیا کہ وہ زندہ دلوں کا شہر ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بسنت کو محفوظ طریقے سے منائیں اور دوسروں کی حفاظت کا بھی خیال رکھیں۔

عظمی بخاری نے کہا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروا رہی ہیں، اور شہریوں کو ڈور اور پتنگ کے QR کوڈ والی اشیاء استعمال کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپلائی بڑھنے سے گڈی اور ڈور کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور آج شام تک مزید سپلائی آنے سے قیمتیں مزید کم ہوں گی۔

پرو ہاکی لیگ کا دوسرا راؤنڈ، پاکستانی ٹیم آسٹریلیا روانہ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 روپے تک ڈور کی ہے اور

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے