بسنت کی رونقیں عروج پر، بازاروں میں گڈا و ڈور کی خریداری کا کاروبار کروڑوں تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سٹی42: لاہور میں 25 سال بعد بسنت کا تہوار تین روزہ جشن کی شکل میں جاری ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں پتنگوں کی خریداری کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز شہر میں 70 سے 75 کروڑ روپے کے قریب گڈا و ڈور کی خریداری ہوئی، جبکہ آج بھی کروڑوں روپے کے کاروبار کی توقع کی جا رہی ہے۔
بسنت کی خوشیوں نے لاہور کے روایتی ورثے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ شہر کی دیواریں، عمارتیں اور چھتیں جشن کی روشنی سے جگمگا رہی ہیں، اور آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں 25 سال بعد واپس لوٹ آئیں۔ لبرٹی چوک، کینال اور اندرونِ شہر کے علاقے بسنت کے رنگوں میں رنگ گئے، جہاں شہریوں نے دن چڑھتے ہی پتنگیں اور ڈور سنبھال لی ہیں۔
بھارت: عام آدمی پارٹی کے رہنما لکی اوبرائے جالندھر میں فائرنگ سے ہلاک
لاہور کے مختلف علاقوں بشمول گڑھی شاہو، باغبانپورہ، شام نگر اور موچی گیٹ میں پتنگ فروش دکانوں پر بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کی بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ موچی گیٹ بازار میں ڈور کا پنا، تاوا، ڈیڑھ تاوا گڈا نایاب ہو گیا ہے اور ڈور کے 2 پیس پنا بلیک میں 25 ہزار روپے تک فروخت ہونے لگے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق پونا تاوا 150 سے 200 روپے، ایک تاوا 400 سے 500 روپے، جبکہ ڈیڑھ تاوا گڈا 600 سے 800 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ بعض علاقوں میں ڈیڑھ تاوا گڈا 500 سے 700 روپے میں بھی دستیاب ہے۔
دنیا بھر میں فیس بک کی سروسز متاثر، صارفین پریشان
پتنگوں کے ساتھ ڈور کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اس کے باعث ڈور کی قیمت 9 سے 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ پتنگوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے اور وقت کم ہونے کے باوجود کوشش کی جا رہی ہے کہ ہر شہری بسنت منانے کا موقع پائے۔
بسنت کے موقع پر انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ صرف ساڑھے چار کھٹی پتنگ اور ڈیڑھ تاوا گڈا اڑانے کی اجازت ہوگی۔ صرف کاٹن دھاگے کی ڈور استعمال اور فروخت کی اجازت ہے جبکہ دھاتی تار، نائلون، کیمیکل یا شیشہ لگی مانجے پر مکمل پابندی ہوگی۔ خلاف ورزی پر 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
انڈر 19 ورلڈکپ کے فائنل میں آج انگلینڈ اور بھارت آمنے سامنے
دوسری جانب رہنما عظمی بخاری نے بسنت کی خوشیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور نے ثابت کر دیا کہ وہ زندہ دلوں کا شہر ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بسنت کو محفوظ طریقے سے منائیں اور دوسروں کی حفاظت کا بھی خیال رکھیں۔
عظمی بخاری نے کہا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروا رہی ہیں، اور شہریوں کو ڈور اور پتنگ کے QR کوڈ والی اشیاء استعمال کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپلائی بڑھنے سے گڈی اور ڈور کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور آج شام تک مزید سپلائی آنے سے قیمتیں مزید کم ہوں گی۔
پرو ہاکی لیگ کا دوسرا راؤنڈ، پاکستانی ٹیم آسٹریلیا روانہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 روپے تک ڈور کی ہے اور
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔