دہشتگرد حملوں کے بعد بلوچستان میں سیکورٹی اقدامات مزید سخت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ صوبے میں نوشکی کے سوا تمام علاقوں اور اہم شاہراہوں پر حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں اور سیکورٹی صورتحال بہتر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوشکی میں بھی صورتحال کو کنٹرول میں لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہونے والی ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی ترجمان شاہد رند نے صوبائی وزرا علیٰ مدد جتک، میر شعیب نوشیروانی، بخت محمد کاکڑ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کے ہمراہ بتایا کہ 31 جنوری کو بلوچستان میں دہشتگردوں کے متعدد حملوں کو ناکام بنایا گیا، تاہم نوشکی میں حالات قابو میں کرنے میں کچھ وقت لگا۔
شاہد رند نے بتایا کہ ان حملوں میں 36 عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے 22 اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سرچ اینڈ کامبنگ آپریشنز جاری ہیں، جن کے دوران 100 سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ، آر پی جی اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی برآمد کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تھانوں پر حملوں میں ملوث افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ شاہد رند کے مطابق کوئٹہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کر دی جائے گی۔
اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ نوشکی جیل کی حالت خطرے سے باہر ہے، جبکہ صوبے کی 2 جیلوں پر حملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں سے فرار ہونے والے قیدیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
حمزہ شفقات نے کہا کہ صوبے میں نوشکی کے سوا تمام علاقوں اور شاہراہوں پر حالات قابو میں ہیں۔ ان کے مطابق پولیو مہم بدستور جاری رہے گی اور آٹھویں جماعت اور میٹرک کے امتحانات بھی معمول کے مطابق منعقد ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حمزہ شفقات نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق بتایا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔