بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ، میاں بیوی کے جھگڑے کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، عدالت کے کیس میں اہم ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی کے کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیئے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے خاتون شہری کی جانب سے بچوں کی حوالگی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی، جس میں میاں بیوی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
ورلڈ کپ میں تیسرے نمبر پر ہی بیٹنگ کروں گا: سلمان علی آغا
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں ، ان کی اپنی جائیداد بھی ان کی اہلیہ کے نام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج اور وکیل میاں بیوی اور بچوں کے دشمن ہیں ، میاں بیوی خود جو معاملہ حل کر سکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کر سکتے۔
عدالت کے استفسار پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ساڑھے 12 سے ساڑھے 4 سال کی عمر کے 4 بچے ہیں، جن میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک چھوٹا بیٹا خاتون کے پاس ہے جب کہ 3 بچے خاوند کے پاس ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا میاں بیوی میں علیحدگی ہو چکی ہے، جس پر دونوں نے عدالت میں بیان دیا کہ نہ علیحدگی ہوئی ہے اور نہ وہ علیحدگی چاہتے ہیں۔
سوات کے مختلف علاقوں میں برفباری، موسم مزید سرد ہوگیا
عدالت کے اس سوال پر کہ پھر مسئلہ کیا ہے کہ 4 سال سے الگ رہ رہے ہیں، خاوند نے بیان دیا کہ وہ نہ علیحدگی چاہتا ہے اور نہ دوسری شادی کی ہے، بیوی گھر اپنے نام کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کو ہدایت کی کہ وہ عرصہ سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں، اس لیے دونوں بیٹھ کر معاملہ حل کریں، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں۔ اگر ایک کو غصہ آئے تو دوسرے کو خاموش رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاتون گھر میں سخت ہوتی ہے ۔ عورت کا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ ماں باپ کو چھوڑ کر خاوند کے ساتھ رہتی ہے۔
اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ کے قریب دھماکا
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے ، چند سالوں میں بچے بڑے ہو جائیں گے تو دونوں سے نفرت کریں گے۔ اس وقت اگر صلح بھی کریں گے تو وہ کام نہیں آئے گی۔ عدالتی استفسار پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر تیار ہو گئے، جس پر عدالت نے دونوں کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے میاں بیوی کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعت پر چاروں بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے ۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔