اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان باہمی تجارت 2 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق ہو گیا ہے، نجی شعبوں کے درمیان 3ارب40کروڑڈالر کے سمجھوتوں پرعملدرآمد اہم پیشرفت ہے، ازبک کمپنیوں کو سہولیات دی جائیں گی۔
پاکستان اور ازبکستان کے تجارتی حجم میں اضافے اور دونوں ممالک کے مابین کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے پاکستان ازبکستان بزنس فورم کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ازبکستان شوکت مرزائیوف نے شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ،ازبکستان کے شرکار کو خوش آمدید کہتا ہوں، دونوں ممالک میں اقتصادی تعلقات اورتجارتی روابط میں اضافہ خوش آئند ہے، نجی شعبوں کے درمیان 3ارب40کروڑڈالر کے سمجھوتوں پرعملدرآمد اہم پیشرفت ہے، گزشتہ بزنس فورم کی بدولت باہمی تجارتی سرگرمیوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ باہمی اقتصادی تعاون اورسرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بزنس فورم ایک مؤثر پلیٹ فورم ہے، گزشتہ ایک سال میں 450ملین ڈالر کی تجارتی سرگرمیاں ممکن ہوئیں، دونوں ممالک میں باہمی تجارت کے مزیدفروغ کی صلاحیت موجود ہے، باہمی تجارت کا حجم2ارب ڈالرتک لےجانےپراتفاق ہوا ہے۔

وزیراعظم نے آگاہ کیا کہ ازبکستان کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح کم کرکےسنگل ڈیجٹ میں لائے ہیں، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، 2023ء میں اقتصادی حالت خراب تھی،معاشی چیلنجز پر کامیابی سے قابوپایا، پاکستان کا آئی ٹی کا شعبہ ترقی کررہا ہے۔

انہوں نے ازبک صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کی قیادت میں ازبکستان کی مجموعی پیداوارگزشتہ10سال میں دوگنا ہوئی، ازبک قیادت نے85لاکھ افراد کو غربت سے نکالا،بیروزگاری میں کمی کی، ہم ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا محفوظ اورپرکشش ماحول فراہم کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ازبکستان کے باہمی تجارت کے درمیان

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار