Daily Mumtaz:
2026-06-03@01:28:22 GMT

حج 2026: سعودی عرب نے ویزوں کے اجرا کی تاریخ کا اعلان کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

حج 2026: سعودی عرب نے ویزوں کے اجرا کی تاریخ کا اعلان کر دیا

سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ حج 2026 کے لیے ویزوں کے اجرا کا آغاز 8 فروری سے کیا جائے گا۔

وزارت کے مطابق ویزوں کے اجرا کا عمل اس سال معمول سے پہلے شروع کیا جا رہا ہے تاکہ حج انتظامات بروقت مکمل کیے جا سکیں اور عازمین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

وزارتِ حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے عازمین کے لیے فراہم کی جانے والی تمام خدمات کے سو فیصد معاہدے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اسی طرح مکہ مکرمہ میں عازمین کی رہائش سے متعلق تمام معاہدے نسک پلیٹ فارم کے ذریعے طے پا چکے ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق اب تک 7 لاکھ 50 ہزار عازمین کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 30 ہزار عازمین اپنے اپنے ممالک سے براہِ راست حج پیکجز بھی بک کروا چکے ہیں۔

وزارت نے مزید بتایا کہ ویزوں کے اجرا کا یہ ابتدائی مرحلہ حج 2026 کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد حج انتظامات کو مزید منظم بنانا اور دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ویزوں کے اجرا

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے