مشکل کی اس گھڑی میں ہم اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہیں: ترجمان چینی سفارت خانہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سٹی 42 : اسلام آباد میں چین کے سفارت خانے نے امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان چینی سفارت خانہ (اسلام آباد) کے مطابق ہمیں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں دھماکے میں ہونے والی شدید ہلاکتوں اور زخمیوں پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ ہم جاں بحق ہونے والوں کے لیے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
بھارت: عام آدمی پارٹی کے رہنما لکی اوبرائے جالندھر میں فائرنگ سے ہلاک
ترجمان نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔