اسلام آباد محفوظ نہیں رہا، خودکش دھماکہ کھلی سکیورٹی ناکامی اور انتظامیہ کی نااہلی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سینیٹ نے کہا کہ اسلام آباد جیسے حساس اور دارالحکومت کے شہر میں، جہاں جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور ہزاروں کیمرے نصب ہیں، دہشتگردوں کا دندناتے پھرنا سکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قائد حزب اختلاف سینیٹ و سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد کے اندر ہونے والے دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وحشیانہ اور بزدلانہ حملہ نہ صرف بے گناہ نمازیوں بلکہ انسانیت، دین اسلام اور معاشرتی اقدار پر براہِ راست حملہ ہے، عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے گمراہ عناصر ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ دہشتگرد امریکہ اور اسرائیل کے آلہ کار بن کر پاکستان میں خونریزی پھیلا رہے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جیسے حساس اور دارالحکومت کے شہر میں، جہاں جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور ہزاروں کیمرے نصب ہیں، دہشتگردوں کا دندناتے پھرنا سکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ساری توجہ عوام کی آواز کو دبانے پر مرکوز ہے، جبکہ ملک کی معیشت اور سکیورٹی دونوں بدترین حالت میں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زخمی نمازیوں کو فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور واقعے میں ملوث عناصر کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ زخمیوں کے لیے خون عطیہ کر کے قیمتی انسانی جانیں بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آخر میں انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلام آباد انہوں نے
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔