امریکا کیساتھ مذاکرات فی الحال ختم؛ ایرانی وزیر خارجہ نے پوری روداد سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
عمان کی میزبانی میں ہونے والے جوہری مذاکرات میں ایران کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی جب کہ امریکی وفد کی قیادت ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ نے کی۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق عمان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے۔ آج مذاکرات کے 2 دور ہوئے تھے۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے دھمکیوں یا دباؤ سے اجتناب سب سے ضروری امر ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے آج ہونے والے مذاکرات میں اپنا یہ نقطہ واضح طور پر اٹھایا اور توقع رکھتے ہیں کہ اس پر عمل کیا جائے تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات مثبت ماحول میں ہوئے اور دونوں طرف کے خیالات اور خدشات کا تبادلہ کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ اگر ہم اسی طرح مثبت راستے پر چل سکیں تو جوہری مذاکرات کے حوالے سے ایک مثبت فریم ورک تک پہنچنا ممکن ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید بتایا کہ اگلے مذاکرات کی تاریخ عمان میں اپنے ہم منصب سے مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔
Very serious talks mediating between Iran and the US in Muscat today.
It was useful to clarify both Iranian and American thinking and identify areas for possible progress. We aim to reconvene in due course, with the results to be considered carefully in Tehran and Washington. pic.twitter.com/OWctzf2CXA — Badr Albusaidi - بدر البوسعيدي (@badralbusaidi) February 6, 2026
مذاکرات کے کامیاب ہونے کے لیے پُر اعتماد فضا کے ہونے کو ضروری قرار دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے جون میں ایران پر ہونے والے اسرائیلی اور امریکی حملوں کا زکر کیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے 3 جوہری مقامات پر حملے کے بعد پیدا شدہ اعتماد کی کمی کو دور کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مذاکرات کے عراقچی نے ہونے والے کہا کہ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔