اسلام آباد خودکش دھماکا، حملہ آور فائرنگ کر کے مسجد کے ہال تک پہنچا، ابتدائی شواہد
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع خدیجہ الکبریٰ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے کیس کے حوالے سے اہم شواہد سامنے آئی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شواہد جمع کر لیے جس میں نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ خود کش بمبار نے مسجد میں گھسنے سے پہلے فائرنگ کی اور پھر ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
حملہ آور نے4 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں جن کے خول بھی جائے وقوعہ سے مل گئے ہیں۔
مزید پڑھیںامام بارگاہ خودکش دھماکا، حملہ آور سے مبینہ قریبی تعلق پر 4 افراد پشاور سے گرفتار
سعودیہ سمیت متعدد مسلم ممالک کی اسلام آباد دھماکے کی مذمت؛ تعزیت کا اظہار
امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ہے، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، وزیر مملکت داخلہ
قبل ازیں تفتیشی ذرائع نے بتایا تھا کہ خود کش حملہ آور کی شناخت یاسر خان کے نام سے ہوئی جو پشاور کا رہائشی ہے اور اس کی پانچ ماہ کی افغانستان و پاکستان کے درمیان سفر کرنے کی تفصیلات بھی ملی ہیں۔
حملہ آور کے شناختی کارڈ پر درج پتے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مار کر 4 قریبی رشتے داروں کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد خود کش دھماکے میں کمسن بچوں سمیت 32 افراد شہید جبکہ 162 زخمی ہوئے جن میں سے 29 کی حالت تشویشناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حملہ آور
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔