سیاسی عدم استحکام ختم کرنا ہو گا!
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
ملک کے موجودہ حالات سنجیدہ اور ٹھوس بنیادوں پر تجزیہ کے متقاضی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ‘ کمال محنت سے حل طلب بھی ہیں۔ حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو مشکلات کا پانی عوام کے سر کے اوپر تک جا پہنچا ہے۔ یعنی لوگوں کا عمومی طبقہ ہر طریقہ سے دیوار سے لگ چکا ہے یا لگا دیا گیا ہے۔ قیامت یہ ہے کہ ان مصائب کو پیدا کرنے میں ان کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ انھیں اس قابل ہی چھوڑا گیا ہے کہ بذات خود حل تلاش کر لیں۔ یہاں تک جو گزارشات پیش کر رہا ہوں یہ بالکل عام سی باتیں ہیں۔ مگر میری نظر میں یہ تمام کے تمام جملے اس بگاڑ کی عکاسی کر رہے ہیں جو مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
مشکل یہ ہے کہ اصل مسائل کو حل کرنے کی بجائے‘ جھوٹ کی لیپا پوتی کی جا رہی ہے۔غیر سنجیدگی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ حکومتی ڈھانچہ حقیقت پسندی سے دور ہو جائے تو پھر کسی قسم کی بہترین پالیسی بھی اچھے نتائج نہیں دکھا سکتی۔ سب سے پہلے یہ عرض کروں گا کہ سیاسی عدم استحکام ‘ پورے ملک کی بنیادوں کو ہلا چکا ہے۔سیاسی تناؤ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہر پل کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے‘ جو اس الجھاؤ کو مشکل تر کرتا چلا جا رہاہے ۔
سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وہ سیاسی راندہ درگاہ لوگ‘ جن کو اکثریت نے ووٹ نہیں دیا تھا پورے کا پورا حکومتی نظام‘ ان کے حوالے کر دیا جاتا رہا۔ اور وہ کرپشن ‘ اقربا پروری اور لوٹ مار کی ان مٹ داستانیں رقم کرتے رہے ۔ اب تو انھیں کسی قسم کا خوف بھی نہیں رہا۔ یہ گھاگ لوگ یا چند خاندان ملکی سیاسی کھیل کی نفسیات سمجھ چکے ہیں۔ یہ جعلی تابعداری کا کھیل اس عیاری سے کھیلتے ہیں‘ کہ سسٹم انھیں اپنا حلیف گردانتا ہے۔ یہ ایک مہلک غلطی ہے۔ گہرائی سے معاملہ کو دیکھئے تو بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ لندن پلان کی جزئیات ‘ مکمل طور پر کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔
اسرائیل اور ہندوستان کا اس منصوبہ میں حصہ بھی کسی سے چھپا نہیں ہے۔ موجودہ نظام میں انتظامی اور اقتصادی ٹیم‘ عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ موجودہ سیاسی ڈھانچہ کی ویسے بھی کوئی مثبت ساکھ نہیں ہے۔ ان لوگوں کی سوچ اتنی پختہ ہے ہی نہیں ‘ کہ اپنے ذاتی فائدے سے آگے کچھ بھی دیکھنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی عوامل‘ اس نوعیت کے ہو چکے ہیں کہ اس پریشر کو بر داشت کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
ڈوبتی ہوئی معیشت‘ خوفناک سیاسی عدم استحکام ‘ ہولناک کرپشن اور طاقتور بین الاقوامی دباؤ کی بدولت‘ گھڑ سوار‘ اب راستہ بدلیں گے یا نہیں؟۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اب مشکل نہیں رہا۔ اپسٹین فائلز میں جس طرح اڈیالہ کے قیدی کو بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے، اس سے اہل فکر کچھ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ ہمارے ہاں سیاستدان اور ان کے خانوادے ہمیشہ طفیلی رہے ہیں۔ اور کسی بھی صورت میں انقلابی قوت نہیں بن سکتے۔ مگر کیا گھڑ سوار یہ برداشت کر لیں گے کہ ‘ اس ناکام سیاسی نظام کو دوام بخشیں۔
دوبارہ عرض کروں گا کہ فوج ہمارے ملک کی سلامتی کی نشانی ہے۔ ہمارے پاس عسکری قوت کے علاوہ کوئی دوسرا مضبوط ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور یہ کوئی خوشگوار صورت حال نہیں ہے۔ براہ راست‘ فوج سے تعلق میں رہا ہوں۔ عام لوگوں کو قطعاً اندازہ نہیں کہ عسکری ادارے میں کام کرنے والے جوانوں اور افسروں کی زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے۔ سخت قواعد میں جکڑ کر زندگی گزارنے کا مطلب کیا ہے؟ کیڈٹ کالج حسن ابدال کے پانچ برس اور پھر عملی سرکاری زندگی میں ریاستی اداروں سے ہر سرکاری افسر کی طرح‘ رابطہ میں رہا ہوں۔عینی شاہد ہوں کہ کسی طور پر بھی کسی بھی دفاعی اہلکار کی ذاتی زندگی آسان نہیں ہے۔ بلند ترین سطح پر کام کرنے والے افسران بھی ایک ڈسپلن کے پابند ہیں۔
دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ سیاستدان کسی ڈسپلن اور قاعدے کے پابند نہیں ، یہی وہ وقت ہے کہ ایسے سیاستدانوں اور سیاسی یتیموں کو ان کی اصل جگہ پر پہنچا دیا جائے۔
آخر یہ کیسے ممکن ہو گا۔ جواب حد درجہ سادہ مگر دشوار ہے۔ سب سے پہلے‘ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کرنی ہو گی۔ وہ افراد ‘ جن کی ساکھ بہتر ہے انھیں ‘ اس کمیشن میں تعینات کرنا چاہیے۔ میری اطلاع کے مطابق‘ اس پر سوچ بچار جاری ہے۔ مگر سیاسی گرگوں نے جو نام دیئے ہیں وہ معاملہ کو مزید بگاڑ دیں گے۔
بالکل ‘ اسی طرح متنازعہ افراد کو الیکشن کمیشن میں لانا‘ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ باکردار اور اچھی ساکھ والے افراد کو تلاش کرنا‘ بالکل مشکل نہیں ہے۔ غیر جانبداری ہی وہ عنصر ہے‘ جس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے۔ دوسرا نکتہ حد درجہ اہم ہے اور ہمارے سیاسی عدم استحکام کو کافی حد تک ختم کر سکتا ہے۔ مکمل طور پر شفاف الیکشن کا ڈول ڈالا جانا چاہیے۔ ایک ایسا الیکشن جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
اعتراض نہ کر پائے اور جس میں کسی حکومتی یا ریاستی ادارے کی مداخلت نہ ہو۔ چھوٹے صوبوںکے موجودہ استحصال کو بھی ختم کرنے کا واحد حل ایک بھرپور طریقے کا الیکشن ہی ہے۔ منتخب نمائندے عوام کی نبض پر ہر وقت ہاتھ رکھے ہوتے ہیں۔ انھیں معاملات کا سنجیدہ شعور ہوتا ہے لہٰذا حکومت ان نمائندوں کے ذریعے ہی چلائی جانی چاہیے۔ ہمارا آئین بھی یہی حکم دیتا ہے۔ ساتھ ساتھ ‘ بلدیاتی اداروں کا الیکشن اور قیام حد درجہ اہم ہے۔ یہ نکتہ درست ہے کہ ہر صوبائی حکومت ‘ اس کی مخالفت کرے گی۔
اگر مقصد ملک کی بہتری ہے تو بلدیاتی ادارے کو فعال کرنا بہت ہی اہم ہے؟ جنرل پرویز مشرف سے آپ جتنا مرضی اختلاف کریں۔ مگر ان کا بنایا ہوا ‘ یعنی بلدیاتی نظامت کا نظام ‘ ایک اچھا قدم تھا۔ جتنی ترقی اس دور میں ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ گھڑ سوار بھی شاید اب سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں بلوچستان میں دہشت گردی کے مربوط حملے‘ کسی بڑی منفی حکمت عملی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ یہ ہرگز ہرگز معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اس میں افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ حکومتی ادارے اور عوام کے درمیان خلیج بہت عریاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ اس کے متضاد ‘ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویوڈیوز موجود ہیں۔ دہشت گرد‘ جس وقت ہولناک وارداتیں کر رہے تھے۔
مگرعام لوگ ان کے اردگرد‘ بڑے اطمینان سے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ سیاسی استحکام آیا تو‘ دہشت گرد ی بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔ ملک کے لیے اپنی اپنی انا کو ختم کیجیے۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ اور دوسرا کوئی راستہ بچا بھی نہیں ہے!
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیاسی عدم استحکام چکے ہیں نہیں ہے جا رہا
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار