Jasarat News:
2026-06-03@00:31:50 GMT

معاشی استحکام

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260207-03-5
وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال نے کہا ہے: پاکستانی معیشت میں استحکام آ گیا ہے‘ نادہندگی کے خطرے سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے 2026ء کو ترقی کا سال قرار دیا ہے۔ مستحکم معیشت سے مراد ایسی معیشت ہے جو مضبوط بنیادوں پر قائم ہو‘ اُتار چڑھاؤ کم ہو اور طویل مدتی پائیدار ترقی ممکن ہو۔ یعنی معیشت انتہائی افراطِ زَر‘ بھاری کساد بازاری اور شدید مالیاتی بحران کے بغیر تسلسل کے ساتھ چلتی رہے‘ اشیائے صَرف کی قیمتیں مستحکم ہوں‘ مفادِ عامّہ کی ضروریات یعنی پٹرول‘ ڈیزل‘ پانی‘ بجلی اور گیس وغیرہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں ہوں‘ شہریوں کو معاشی تحفظ‘ روزگار اور بہتر معیارِ زندگی دستیاب ہو۔ کرنسی کی قدر اور ادائیگیوں کا توازن مستحکم ہو اور اُتار اور چڑھائو کا شکار نہ ہو۔ بین الاقوامی ادائیگیوں کا توازن قائم رہے اور ملکی برآمدات اتنی ہوں کہ درآمدات کے واجبات کی بروقت ادائیگی ممکن ہو۔ حکومت کا بجٹ خسارہ قابو میں ہو‘ داخلی اور خارجی قرض حد کے اندر رہیں‘ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ داروں کا اعتماد قائم ہو‘ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو‘ ملک کے اندر امن وامان ہو‘ بے امنی اور فساد نہ ہو‘ مجموعی داخلی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ آبادی میں اضافے کے تناسب سے کافی بڑھ کر ہو۔ داخلی قومی پیداوار سے مراد وہ آمدنی ہے جو زرعی پیداوار (اجناس‘ پھل‘ سبزیوں وغیرہ)‘ صنعتی پیداوار‘ برسرِ زمین اور زمین وسمندر کے نیچے معدنیات‘ جنگلات اور حیوانات وغیرہ سے حاصل ہو۔

جب ہم اس معیار پر دیکھتے ہیں تو معاشی استحکام کا دعویٰ مشتبہ نظر آتا ہے‘ کیونکہ افراطِ زَر بڑھ رہا ہے‘ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے‘ درآمدات کے واجبات برآمدات کے مقابلے میں بڑھ جانے کے سبب توازنِ ادائیگی متاثر ہو رہا ہے‘ کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ بھی بڑھتا رہتا ہے‘ مہنگائی کے تناسب سے اجرتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا‘ عوام کی قوتِ خرید میں کمی کے سبب کساد بازاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مجموعی قومی محصولات ناکافی ہیں‘ صوبوں کا حصہ نکالنے کے بعد وفاق کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں رہتے کہ دفاع‘ داخلی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور وفاقی حکومت کے اخراجات پورے ہو سکیں‘ اس لیے وفاق پر واجب الادا قرضوں کا تناسب بڑھتا چلا جا رہا ہے اور وہ مزید قرضے لینے پر مجبور ہے‘ اس لیے اس کو استحکام سے تعبیر کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ قرضوں کی معیشت سے نکلنے کے دو ہی طریقے ہیں: ایک اخراجات کی حدکو آمدنی کے مطابق رکھنا یعنی چادر کے مطابق پائوں پھیلانا اور دوسرا طریقہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے آمدنی کے ذرائع بڑھانا۔ یہ امر بھی مشتبہ ہے کہ عوام سے جو مختلف ذرائع سے ٹیکس کی جبری وصولی ہوتی ہے‘ یعنی ہوٹلوں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹوروں کے بِل‘ ائرلائنز کے ٹکٹ‘ موبائل کمپنیوں اور یوٹیلیٹی بلوں میں جوٹیکس کی کٹوتی ہوتی ہے‘ سننے میں آیا ہے کہ وہ پوری رقم ایف بی آر کے اکائونٹ میں جمع نہیں ہوتی‘ بلکہ مْک مکا ہو جاتا ہے اور وصول شدہ ٹیکسوں کا محض ایک حصہ سرکاری خزانے میں جاتا ہے۔

ہمارے حکومتی ذمے داران بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے حالات سازگار ہیں‘ لیکن جب بیرونی سرمایہ کار دیکھتے ہیں کہ پاکستانی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال کر دبئی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تو وہ کیسے مائل ہوں گے۔ اعداد وشمار کے مطابق 2025-26ء میں اسٹاک ایکسچینج میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کا رجحان ہے۔ معیشت کے استحکام اور مائل بہ ترقی ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ حکومت عوام کے لیے فیض رساں ہو‘ عوام کی قوتِ خرید میں معتد بہ اضافہ ہو‘ بازاروں میں معیشت متحرک نظر آئے‘ خرید وفروخت کا چلن عام ہو‘ عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے‘ لیکن ہمیں عملاً یہ نظر نہیں آتی۔ عوام کے ساتھ ایک ستم ظریفی یہ بھی کی گئی ہے کہ اس عرصے میں چیئرمین سینیٹ‘ اسپیکر قومی اسمبلی سمیت وفاقی وصوبائی وزرا اور ارکانِ پارلیمان کے مشاہروں اور مراعات میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت کے دو سال مکمل ہونے والے ہیں اور ابھی تک عوام کو تسلیاں دی جا رہی ہیں کہ مستقبل تابناک ہے‘ مگر عوام کے حالات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہو رہی۔ ماضی میں حبیب جالب نے پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کہا تھا: وہی حالات ہیں فقیروں کے؍ دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے ٭ اپنا حلقہ ہے‘ حلقۂ زنجیر؍ اور حلقے ہیں سب امیروں کے ٭ ہر بلاول ہے دیس کا مقروض؍ پاؤں ننگے ہیں‘ بینظیروں کے ٭ وہی اہل ِ وفا کی صورتحال؍ وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے ٭ سازشیں ہیں وہی‘ خلافِ عوام؍ مشورے ہیں وہی مشیروں کے ٭ بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی؍ وہی دن رات ہیں اسیروں کے۔

معاشی استحکام کا ایک بنیادی عنصر سیاسی استحکام اور داخلی وخارجی امن وسلامتی ہے۔ اس موضوع پر کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے‘ سب کچھ دیوار پہ لکھا ہے‘ بس اسے پڑھنے کے لیے عقل ِ سلیم اور دیدۂ بینا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے دفاعی اور سلامتی کے اداروں کے جوان اور افسران مثالی قربانیاں دے رہے ہیں‘ جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں‘ لیکن ان کی قربانیوں کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے ایک یکسو اور متحدہ قومی عزم کی ضرورت ہے جو بدقسمتی سے ناپید ہے۔ بلوچستان میں حالیہ جھٹکا اہل ِ نظر کے چودہ طبق روشن کر دیتا ہے۔ اس کا سبق یہ ہے کہ ملک کی سلامتی کو سیاسی وابستگیوں پر ترجیح ِ اوّل ملنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ ملک قائم ہے تو سب کے مناصب بھی ہیں‘ پہچان بھی ہے اور وقار واعتبار بھی ہے‘ ورنہ کشمیر‘ فلسطین‘عراق‘ یمن‘ لبنان‘ شام‘ سوڈان‘ وینزویلا اور صومالیہ وغیرہ کے حالات سب کے سامنے ہیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا: وفاق سے لے کر صوبوں تک کرپشن کا عفریت پورے ملک کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ وزیر ِ دفاع کا یہ بیان بھی چشم کشا ہے کہ بلوچستان کی محرومی کا بیانیہ گمراہ کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے بلوچستان کو وفاق کی جانب سے دی ہوئی رقوم کے اعداد وشمار پیش کیے‘ مگر برسر ِ زمین ان کے اثرات نظر نہیں آ رہے۔ سردار وسائل کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور ملک کے اندر اور ملک سے باہر اپنے عشرت کدے اور کاروباری مراکز قائم کیے ہوئے ہیں‘ مگر داخلی امن وسلامتی کے حق میں اور دہشت گردوں کے خلاف وہ کوئی واضح موقف اختیار کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ خواجہ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ علٰیحدگی پسندوں‘ جرائم پیشہ عناصر اور اسمگلروں کا باقاعدہ گٹھ جوڑ ہے اور ان سب کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کا وسیع رقبہ‘ معدنی وسائل اور بندرگاہیں بھی پاکستان دشمن عالمی قوتوں کی کشش کا باعث ہیں۔ بظاہر معاشی ترقی کے امکانات روشن نظر آتے ہیں‘ لیکن داخلی وخارجی امن وسلامتی کے بغیر ان وسائل اور امکانات سے فائدہ اٹھانا عملاً ممکن نہیں ہے۔ ہماری رائے میں خواجہ آصف کا بیان محض اْن کی ذاتی سوچ نہیں بلکہ ادارے کا پیغام ہے۔ ثاقب عظیم آبادی نے کہا ہے ’’اے روشنی طبع تو بر من بلا شدی‘‘ یعنی بلوچستان کی ترقی کے وسیع امکانات ہی اس ساری شورش کا سبب ہیں۔

اس پس منظر میں جب نوجوانوں کو یہ خواب دکھائے جائیں گے کہ جنت ارضی اْن کی منتظر ہے‘ قومی عصبیت کو بھی ابھارا جائے گا تو اْن کو بہکانا اور بھٹکانا آسان ہو جاتا ہے اور بلوچستان اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایسی تحریکات کے قائدین تو اْن قوتوں کے سرمائے سے فیض یاب ہوتے ہیں جو انہیں استعمال کرتی ہیں‘ لیکن نچلی سطح کے لوگ بعض اوقات اْن کے موقف کو درست سمجھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ان سے جڑ جاتے ہیں اور ہر قربانی کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس کا توڑ حکمت ودانش ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں بلوچستان کے اسکولوں کے بعض اساتذہ نے بتایا کہ ہمارے لیے اردو‘ اسلامیات اور مطالعہ ٔ پاکستان پڑھانا بھی دشوار ہے‘ کیونکہ تخریبی ذہن اس کی مزاحمت کرتے ہیں اور پاکستانی سوچ کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔

مفتی منیب الرحمن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری میں اضافہ اضافہ ہو کے لیے ا عوام کے ہیں اور ہے اور رہا ہے ہو رہا ہیں کہ

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان